تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 408
بلندی کو پہنچ سکے۔پھر اس لحاظ سے بھی آپ ؐ توحید کے مقام پر تھے کہ توحید کے قیام کے لئے آپ ؐنے اس قدر جدوجہد کی کہ دنیا و مافیھا آپ کی نظرو ں سے غائب ہوگئے اور خدا ہی خدا آپ کو نظر آنے لگا۔اور پھر اس لحاظ سے بھی آپ توحید کے مقام پر تھے کہ توکل کا بلند ترین مقام آپ کو حاصل تھا اور آپ کی نظر خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کی طرف اٹھتی ہی نہیں تھی۔پھر رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ کے ماتحت صفت رب العالمین کا مادہ بھی خدا تعالیٰ نے ہر انسان میں پیدا کیا او ر اُسے اتنا وسیع کیا کہ ہرماں اور ہر باپ اپنے بچہ کی تربیت کر رہا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تو یہ صفت اس درجہ تک پائی جاتی تھی کہ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جو آپ کے احسان سے باہر رہ گئی ہو۔یہ ظاہر ہے کہ ربوبیت عالمین میں تمام مخلوق شامل ہے۔یعنی انسان بھی اس میں شامل ہیں اور حیوان بھی اُس میں شامل ہیں۔مرد بھی اس میں شامل ہیں اور عورتیں بھی اس میں شامل ہیں مومن بھی اس میں شامل ہیں اور کافر بھی اس میں شامل ہیں امیر بھی اس میں شامل ہیں اور غریب بھی اس میں شامل ہیں۔یہاں تک کہ انبیاء اور ملائکہ بھی اس میں شامل ہیں۔اب جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلو م ہوتا ہے کہ آپ صفتِ رب العالمین کے ایسے کامل مظہر تھے کہ د نیا کی کوئی مخلوق آپ کے احسان سے باہر نہیں تھی۔مخلوق میں سے اہم جنس حیوان ہیں جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو کئی قسم کے احکام دئیے ہیں۔مثلاً آپ نے فرمایا کہ آزاد جانوروں کو باندھ کر مت رکھو اور اگر باندھ کر رکھتے ہو تو ان کے کھانے پینے کا انتظام کرو۔کسی جانور کو کسی دوسرے جانور کے سامنے ذبح نہ کرو تاکہ اُسے تکلیف نہ ہو۔کسی جانور کو کُند چھری سے ذبح نہ کرو۔کسی جانور کو باندھ کر نشانہ نہ بنائو۔کسی جانور پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ لادو۔کسی جانور کے مونہہ پر داغ نہ لگائو۔اگر لگانا ہی ہو تو پیٹھ پر لگائو۔اسی طرح فرمایا کہ جو پالتو جانور ہیں اُن کو دانے وغیرہ ڈال دینا بھی ثواب کا موجب ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص جو جانوروں کو دانے وغیرہ ڈالا کرتا تھا اللہ تعالیٰ کو اُس کی یہ نیکی ایسی پسند آئی کہ اُس نے اس نیکی کے عوض اُسے اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرما دی۔(مسلم کتاب البر و الصلۃ والآداب باب تحریم تعذیب الھرۃ،و ابن ماجہ کتاب الذبائح باب اذا ذبحتم فاحسنواالذبح و البخاری کتاب الذبائح و الصید باب ما یکرہ من المثلۃ المصبورۃ و ابو داؤد کتاب الجھاد باب ما یؤمر بہ من القیام علی الدواب و باب النھی عن الوسم فی الوجہ) عورتوں کے حقوق کا آپ نے اس قدر خیال رکھا کہ فرمایا وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ کہ جس طرح عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی بہت سے حقوق ہیں جو مردوں کو ادا کرنے چاہئیں۔پھر ہر شعبہ زندگی میں عورت کی ترقی کے راستے آپ نے کھولے اُسے جائیداد کا مالک قرار دیا۔اُس کے جذبات اور احساسات