تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 407

اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر رکھ دیں تب بھی میں اس تعلیم کو نہیں چھوڑ سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے ملی ہے(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام مباداۃ رسول اللہ قومہ وما کان منھم وذکر ما دار بین رسول اللہ و رؤساء قریش ) یہ الفاظ کوئی معمولی الفاظ نہیں تھے۔آج بھی یورپ کے معاند مؤرخین جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات لکھتے ہوئے اس مقام پر پہنچتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں اور وہ یہ لکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہےکہ محمد ؐرسول اللہ جھوٹ بولنے والے نہ تھے اور آپ کو اس تعلیم کی سچائی پر پورا یقین تھا جو آپ ؐ لائے تھے۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر سچائی کا وہ مادہ رکھا ہے کہ سچائی پر قائم ہوتے ہوئے انسان کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔پھر الحق کے دوسرے معنے دنیا کو قائم رکھنے والے کے ہیں۔اس کا بہترین نمونہ بھی انبیاء علیہم السلام کا وجود ہوتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کا غضب دنیا کے گناہوں کی وجہ سے بھڑکنے والا ہوتا ہے تو اُس وقت خدا تعالیٰ کا الحق ہونا فوراً اپنے نبی کی طرف نگا ہ دوڑاتا ہے اور کہتا ہے اس وجود کے ہوتے ہوئے میں دنیا کو کیونکر تباہ کردوں۔پس اُس کا وجود اس دنیا کے لئے ایک حرز اور تعویذ ہوتا ہے اور اُس کی وجہ سے مخلوق بہت سے مصائب اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بننے سے محفوظ رہتی ہے۔پھر لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَ جو رحمانیت کا منبع ہے اُس کےساتھ قربانی اور ایثار کا تعلق ہے۔کیونکہ رحمانیت تقاضا کرتی ہے کہ بغیر کسی مزدوری اور محنت کے دوسرے پر احسان کیا جائے اور یہ چیز بھی انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے چنانچہ دیکھ لو قطع نظر اس خیال کے کہ بڑے ہو کر بچہ کسی کام بھی آئےگا یا نہیں ماں باپ اُسے پالتے اور اُس کے آرام و آسائش کا ہر طرح خیال رکھتے ہیں۔وہ اپنے دن کا آرام اور راتوں کی نیند اُس کے لئے حرام کر دیتے ہیں اور ہر ممکن کوشش اُس کے بقاء اور تحفظ کے لئے کرتے ہیں۔یہ صفت رحمانیت کا ہی پر تو ہے جو انسان میں دکھائی دیتا ہے۔اسی طرح ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ جو شخص لَااِلٰہَ اِلَّا ھُوَ کا مقام دیکھ لیتا ہے وہ خود بھی توحید کے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے۔توحید کے مقام پر کھڑا ہونے کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح اپنی تو حید اور تفرید سے محبت ہے اسی طرح انسان سے بھی محبت ہو جاتی ہے اور وہ اُس کے مقابلہ میں ساری دنیا کی بھی پروا نہیں کرتا۔یہی وہ مقام ہے جسے حدیث قدسی میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ لَوْلَا کَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ یعنی اے محمد ؐ رسول اللہ ! اگر تونہ ہوتا تو میں زمین و آسمان کو بھی پیدا نہ کرتا۔پھر یہ بھی توحید کا مقام تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے سیّد ولد آدم اور اوّلین و آخرین کا سردار بنایا اور فیصلہ فرما دیا کہ اب کوئی ماں ایسا بچہ نہیں جن سکتی جو آپ ؐ کے درجہ کی