تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 405

ہیں۔اس کے اندر خدا تعالیٰ نے مَلِک والی صفت بھی رکھی ہے جس کے نتیجہ میں وہ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن کا مظہر بنتا ہے اور اس صفت کا اتنا غلبہ ہے کہ دنیامیں ناقابل سے ناقابل انسان کو بھی مجازی طورپر بادشاہ بننے کی خواہش ہوتی ہے اور وہ اپنا مشورہ دینے کے لئے بے تاب رہتا ہے۔پھر بادشاہت ایک نظام چاہتی ہے اور انسان بھی ملک ہو کر قانون بناتا اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ہو کر قاضی بنتا اور لوگوں کے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ کرتا ہے۔پھر ملکیت نظام کامل پر بھی دلالت کرتی ہے۔کیونکہ بادشاہ کا یہ کام ہو تا ہے کہ وہ نظام کو قائم رکھے اور ایک کو دوسرے پر ظلم نہ کرنے دےاور چونکہ خدا تعالیٰ الملک تھا اُس کی ملکیت نے تقاضا کیا کہ بنی نوع انسان میں بھی نظام جاری ہو۔اسی لئے اُس نے انسان کو مدنی الطبع بنایا اور اُس میں مل جُل کر رہنے کی طرف رغبت پیدا کی۔اور بیوی بچے رشتہ دار اور دوست وغیرہ اُس کے ساتھ لگادیئے گئے۔بیشک وہ جانوروں کے ساتھ بھی ہیں مگر اس طرح نہیں جس طرح انسان کے ساتھ ہیں۔مثلاً اُن میں تربیت اولاد کا طریق نہیں۔بچہ جب دانہ کھانے لگے تو وہ اُسے مارکر باہر نکال دیتے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہوگا کہ بچے کو بوڑھا ہونے تک وہ اپنے ساتھ لئے پھریں۔لیکن انسانوں میں یہ بات نظر آتی ہے کہ بچے کے بوڑھا ہونے تک بھی اگر ماں باپ زندہ ہوں تو اس کا فکر رکھتے ہیں۔پھر جانوروں میں برادری سسٹم کوئی نہیں۔لیکن اگر بعض کے تعاون کو جیسا کہ چیونٹیوں میں ہوتا ہے برادری کا طریق بھی سمجھ لیا جائے تو خاندانوں کا سسٹم اُن میں قطعًا نہیں۔اور وارث ہونا اور قرابت کی وجہ سے دوسرے کا ذمہ دار قرار پانا یہ باتیں تو اُن میں کُلی طور پر مفقود ہیں۔غرض ملکیت چونکہ نظامِ کامل پر دلالت کرتی تھی اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ دنیامیں بھی نظام کامل جاری کیا جائے اور اسی لئے اس نے انسان کو مدنی الطبع بنایا۔پھر صفت الْحَقُّ جس کے تابع رحیمیت کی صفت ہے اخلاقِ فاضلہ اور عمل کی درستی پر دلالت کرتی ہے۔رحیمیت کے معنے ہیں اچھے کام کا بہتر سے بہتر بدلہ دینا اور یہ چیز اخلاق سے تعلق رکھتی ہے۔اچھے کام ہوں تو بدلہ دیا جا سکتا ہے۔ورنہ نہیں۔چنانچہ جس طرح ملکیت کے نظام کو قبول کرنے کے لئے اُس نے انسان کے اندر قابلیت رکھی تھی اور اُسے مدنی الطبع بنایا تھا اسی طرح الحق کے مقابلہ میں اخلاق فاضلہ انسان کو عطاکئے گئے۔مذہب ہویا نہ ہو۔تعلیم ہو یا نہ ہو۔خلافِ اخلاق بات دیکھ کر ہر شخص کا چہرہ فوراً سُرخ ہو جائےگا اور پتہ لگ جائے گا کہ اُس کی فطرت بو ل رہی ہے۔جھوٹ بولنے یا چوری کرنے کی کسی کو عادت پڑ جائے تو اور بات ہے ورنہ پہلا جھوٹ بولتے ہوئے اُس کا رنگ ضرور فق ہوگا اور پہلی چوری کرتے ہوئے اُس کا ہاتھ ضرور کانپے گا کیونکہ اخلاق فاضلہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں داخل کئے ہیں۔اور جب خدا تعالیٰ رحیم تھا تو ضروری تھا کہ دنیا میں اچھے کام بھی ہوں تاکہ اُن کا بدلہ دیا جا سکتا۔پھر الْحَقُّ میں چونکہ سچا وعدہ کرنے والے کے معنے بھی پائے جاتے ہیں اس