تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 406

لئے اللہ تعالیٰ نے انسان میں الْحَقُّ کی صفت بھی رکھی۔چنانچہ انسان ہی وہ وجود ہے جو سچائی کو اُس کی انتہائی حد تک پہنچا دیتا ہے اور سچائی کے قیام کے لئے اتنی عظیم الشان قربانی کرتا ہے کہ جس کی مثال کسی اور مخلوق میں نہیں مل سکتی۔امتِ محمدیہؐ میں ایسے کئی اولیا ء ہوئے ہیں جنہوں نے سچائی کے لئے بڑی بڑی تکالیف اٹھائی ہیں۔یہا ں تک کہ انہوں نے اس راہ میں مرنا قبول کر لیا مگر سچا ئی کو ترک نہیں کیا۔خود ہماری جماعت میں شہدائے کابل کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے پتھر کھا کھا کر مرجانا قبول کر لیا مگر اس بات کو ایک لمحہ کے لئے برداشت نہ کیا کہ جوسچائی انہوں نے اختیار کی تھی اُس کو لوگوں کے کہنے سے ترک کر دیں۔ہمارے سردار اور آقا حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دیکھ لو۔مکی زندگی میں ابو طالب جو آپ کے چچا تھے آپ کی بڑی حفاظت کیاکرتے تھے اور چونکہ وہ اپنی قوم کے سردار تھے اس لئے قریش مکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح دق نہ کر سکتے تھے جس طرح وہ آپ کے صحابہ ؓ کودق کیا کرتے تھے۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وعظ و نصیحت کو سُن سُن کر انہوں نے محسوس کیا کہ اسلام بڑھتا چلا جاتا ہے اور اگر اسے جلدی روکا نہ گیا تو اُس کا مٹانا اُن کے لئے سخت مشکل ہو جائےگا تو وہ ایک وفد کی صورت میں ابو طالب کے پاس آئے اور انہیں کہا کہ آپ کے بھتیجے نے ہمیں سخت دق کر رکھا ہے وہ ہمارے بتوں کو گالیاں دیتا او ر ایک خدا کاو عظ کرتا رہتا ہے۔آپ اسے سمجھائیں کہ وہ ایسا نہ کرے اور اگر وہ نہ رُکے تو آپ اس سے الگ ہو جائیں اور ہم پر اس کا معاملہ چھوڑ دیں ہم خود اس سے نپٹ لیں گے اور اگر آپ اُن سے الگ ہو نے کے لئے بھی تیار نہ ہوں تو مجبوراً ہمیں آپ کی سرداری کو بھی جواب دینا پڑے گا۔اور پھر اس کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ابو طالب اپنے قبیلہ کے سردار تھے اور جن قوموں میں قبائلی زندگی ہوتی ہے وہ اپنی سرداری کی بڑی قیمت سمجھتی ہیں۔ابو طالب نے جب یہ بات سُنی تو گھبراگئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بُلا کر کہا۔اے میرے بھتیجے ! اب قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھے ہلا ک کردیں اور ساتھ ہی مجھے بھی۔میں نے ہمیشہ تیری حفاظت کرنے کی کوشش کی ہے مگر آج میری قوم کے افراد نے مجھے صاف طو ر پر کہہ دیا ہے کہ یا تو اپنے بھتیجے سے الگ ہو جائیں اور اگر آپ الگ ہونے کے لئے تیار نہ ہوں تو ہم آپ کی سرداری کو بھی جواب دے دیں گے۔ابو طالب کے لئے یہ ایک ایسا امتحان تھا کہ باتیں کرتے کرتے انہیں رقت آگئی اور اُن کی تکلیف کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بھی ڈبڈبا گئیں۔مگر آپ نے فرمایا۔اے چچا ! میں آپ کے احسانات کو بھول نہیں سکتا۔میں جانتا ہوں کہ آپ نے میری خاطر بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں لیکن اے چچا ! مجھے خدا تعالیٰ نے اسی کام کے لئے مبعوث کیا ہے۔اگر آپ کو اپنی تکلیف کا احساس ہے تو اپنی پناہ واپس لے لیں۔خدا نے مجھے سچائی دی ہے جسے میں کبھی نہیں چھوڑ سکتا۔