تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 404

کی ایک زبر دست دلیل ہے کیونکہ بغیر کسی وقفہ اور رخنہ کے سب مخلوق کی ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کامل توحید اُنہی قوموں میں پائی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کی رحمانیت کی قائل ہیں۔ہندو اور مسیحی مشرک قومیں ہیں اور یہ دونوں رحمانیت کی قائل نہیں۔ایک نے رحمانیت کا انکار کرکے تناسخ کا مسئلہ نکال لیا اور دوسری نے کفارہ کا مسئلہ ایجاد کر لیا۔پھر خدا تعالیٰ کی صفتالْحَقُّ نے جب اپنا ظہو ر چاہا تو اُس نے رحیمیت کے ذریعہ سے سچائی کے دلدادوں کو ہمیشہ کی زندگی بخشی۔کیونکہ رحیم کے معنے ہیں اچھے کاموں کا اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دینے والی ہستی جو کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتی اور یہی الحق کی صفت کا تقاضا ہے۔الْحَقُّ چاہتا ہے کہ اُس کا کوئی وعدہ غلط نہ جائے اور جو جو اُس نے لوگوں سے انعامات کے وعدے کئے ہیں وہ اُن کو ضرور مل جائیں۔پھر الْحَقُّ کے معنے قائم رہنے اور قائم رکھنے کے بھی ہوتے ہیں۔اور رحیم کی صفت میں جو بار بار بدلہ دینے کے معنے پائے جاتے ہیں وہ بھی اس صفت سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ الحق نہ صرف خود قائم رہتا ہے بلکہ دوسروں کوبھی قائم رکھتا اور ان کے انعامات کو بھی قائم رکھتا ہے۔حق درحقیقت مصدر ہے اور مصدر مبالغہ کے معنوں کے ساتھ اسم فاعل کے معنے بھی دے دیتا ہے۔جیسے اَلْعَدْلُ نہایت انصاف کرنےوالے کو کہتے ہیں۔پس الْحَقُّ کے معنے قائم رہنے والے۔قائم رکھنے والے اور سچے وعدے کرنے والے کے ہوںگے۔اور چونکہ رحیم کے معنے بھی کسی کے نیک کام کو ضائع نہ کرنے والے اور متواتر انعامات دینے والے کے ہیں اس لئے اس صفت کا تعلق الحق سے ہی ہے۔پھر رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِنے چاہا کہ کوئی ایسی مخلوق ہو جس کی وہ ربوبیت کرے۔پس اُس نے دنیا پیدا کی اور اس کے لئے وہ رب العالمین ہو کر ظاہر ہوا۔رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ میں بتایا گیا تھا کہ وہ تمام صفاتِ حسنہ کا مرکز اور حکومت کا مالک ہے اور اُس کا عرش کریم ہے اور کریم اُسے کہتے ہیں جس میں اعزاز اور احسان پایا جا تا ہو۔اور یہی رب العالمین میں بیان کیا گیا ہے۔غرض رب العالمین کی صفت تابع ہے رب العرش الکریم کی صفت کے اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِکی صفت تابع ہے اُس کے ملک ہونےکی صفت کے اورالرَّحیم کی صفت تابع ہے الْحَقُّ کی صفت کے اور الرحمٰن کی صفت تابع ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ کی صفت کے۔گویا یہ چاروں صفات جو سورۂ فاتحہ میں بیان کی گئی ہیں وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِمیں بیان کی ہیں۔اور اس طرح بنی نوع انسان کو اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ ہم نے دنیا کو کھیل کے طورپر نہیں بتا یا بلکہ اس لئے بنایا ہے کہ ہم الْمَلِكُ ہیں۔ہم الْحَقُّ ہیں۔ہم لَا اِلَہَ اِلَّا ھُوَ ہیں۔ہم رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِہیں۔یہ چار صفات ہیں جنہوں نے تقاضا کیا کہ ہم اپنے آپ کو ظاہر کریں۔پس ہم نے اپنے آپ کو ظاہر کر دیا۔چنانچہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ چاروں صفات تنزلی طور پر ہر انسان کے اندر پائی جاتی