تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 385

ہوئی کہ کوئی انسان یا حیوان گلہ یا رمد کچھ نہ چکھے اور نہ کھائے نہ پئے لیکن حیوان اور انسان ٹاٹ سے ملبّس ہوں اور خدا کے حضور گریہ و زاری کریں بلکہ ہر شخص اپنی بُری روش اور اپنے ہاتھ کے ظلم سے باز آئے شاید خدا رحم کرے اوراپنا ارادہ بدلے اوراپنے قہر ِ شدید سے باز آئے اور ہم ہلاک نہ ہوں۔جب خدا نے اُن کی یہ حالت دیکھی کہ وہ اپنی اپنی بُری روش سے باز آئے تو وہ اس عذاب سے جو اُس نے اُن پر نازل کر نے کو کہا تھا باز آیا اور اُسے نازل نہ کیا۔( یوناہ باب ۳ آیت ۴تا ۱۰) قرآن کریم خو د اس واقعہ کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہفَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِيْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ (یونس :۹۹)یعنی یونس ؑ کی قوم کے سوا کیوں کوئی اور بستی بھی ایسی نہ ہوئی جو سب کی سب ایمان لاتی اور اس کا ایمان لانا اُسے نفع دیتا۔چنانچہ دیکھ لو۔یونس ؑ کی قوم کے لوگ جب ایمان لائے تو ہم نے اُن پرسے اس دنیا کا رسوا کن عذاب دور کر دیا اور انہیں ایک وقت تک ہر طرح کا سامان اور رزق عطا فرمایا۔اس سے ظاہر ہے کہ بندے اگر توبہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سچے دل سے رجوع کریں اور بد اعمالیوں سے باز آجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے عذاب کو دورکر دیا کرتا ہے خواہ اُس عذاب کی اُس نے پیشگوئی ہی کیوں نہ کی ہوئی ہو۔کیونکہ انذاری پیشگوئیوں سے بڑی غرض یہی ہوتی ہے کہ لوگوں کو اصلاح کا موقعہ دیا جائے۔چنانچہ دیکھ لو فتح مکہ کے وقت جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری قوم نے آپ کی غلامی کو قبول کر لیا تو باوجود اس کے کہ وہ شدید جرائم کی مرتکب رہ چکی تھی اور اگر اُسے سزا دی جاتی تو قانونی رنگ میں بالکل جائز ہوتی اللہ تعالیٰ نے اسے جسمانی سزا سے بھی بچا لیا اور روحانی لحاظ سے بھی اُسے بڑی ترقیات عطا فرمائیں۔مگر فرماتا ہے ان لوگوں کی یہ حالت نہیں وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا يَتَضَرَّعُوْنَ ہم نے ان کو سخت عذاب میں جکڑا مگر پھر بھی یہ اپنے رب کے حضور عاجزانہ رنگ میں نہ جھکے اور اُس سے اپنے گناہوں کی معافی انہوں نے طلب نہ کی۔آخر اس کا یہی نتیجہ ہو گا کہ یہ ایک دن آخری عذاب میں مبتلا ہو جا ئیں گے اور اُس وقت اپنی نجات کی کوئی راہ نہیںپائیں گے اور دنیوی سہاروں کو ٹوٹتا دیکھ کر بالکل مایوس اور نا امید ہو جائیں گے۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم نے صرف یہی نہیں بتا یا کہ مجر م قوم اس کے عذاب کا شکار ہوا کرتی ہے بلکہ اُس نے اس مضمون کو بھی بیان کیا ہے کہ وہ سزا دیتے وقت کن امور کو ملحوظ رکھا کرتا ہے تاکہ اُس کی سزا کو ظلم قرار نہ دیا جا سکے۔چنانچہ قرآن کریم کے مطالعہ سے پہلی بات تو یہ معلو م ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر فعل کے تمام پہلوئوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وَ الْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْحَقُّ ُّ ( الاعراف :۹)اس دن تمام اعمال کا وزن کرنا