تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 386

اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم نے صرف یہی نہیں بتا یا کہ مجر م قوم اس کے عذاب کا شکار ہوا کرتی ہے بلکہ اُس نے اس مضمون کو بھی بیان کیا ہے کہ وہ سزا دیتے وقت کن امور کو ملحوظ رکھا کرتا ہے تاکہ اُس کی سزا کو ظلم قرار نہ دیا جا سکے۔چنانچہ قرآن کریم کے مطالعہ سے پہلی بات تو یہ معلو م ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر فعل کے تمام پہلوئوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وَ الْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْحَقُّ ُّ ( الاعراف :۹)اس دن تمام اعمال کا وزن کرنا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔انسانوں کی تو یہ کیفیت ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی شخص سے اڑتی ہوئی خبر بھی سُن لیں کہ فلاں شخص نے چوری کی ہے تو اسے فوراً چو ر سمجھنے لگ جاتے ہیں اور تحقیق کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتے مگر اللہ تعالیٰ سزا دیتے وقت یہ بھی ملحوظ رکھتا ہے کہ اُس نے یہ فعل کن حالات میں کیا ہے اور کتنی سزا کا مستحق ہے۔دوسری بات اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ جس کا جرم ہو صرف اسی کو پکڑا جاتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ دوسروں کے جرائم کے بدلہ میں ایک غیر مجرم کو سزا دے دی جائے۔بلکہ جس کا قصور ہو صرف اسی کو سزا دی جاتی ہے۔چنانچہ وہ فرماتا ہے وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (الانعام :۱۶۵) کوئی بوجھ اٹھانےوالی ہستی کسی دوسری ہستی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔یعنی وہ شخص جو خود ہی اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہو وہ کسی دوسرے کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔پس سزا صرف مجرم کو دی جاتی ہے یہ نہیں ہوتا کہ اُس کا بوجھ کسی دوسرے پر ڈال دیا جائے۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے اس آیت میںبھی بیان فرما یا ہے۔لَاتَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا ( البقرۃ :۴۹)یعنی کوئی شخص کسی دوسر ے شخص کا سزا میں قائم مقام نہیں بن سکے گا۔تیسری بات اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ جتناکسی کا جرم ہو اتنی ہی اسے سزا دی جاتی ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ جرم تو تھوڑا ہو اور سزا زیادہ ہو۔چنانچہ وہ فرماتا ہے جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا (الشورٰی :۴۱)یعنی بدی کی سزا اتنی ہی دی جاتی ہے جتنا کہ جرم ہو اور دونوں کے تناسب کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔چوتھی بات اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ سزا دینے سے پہلے یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اُس نے نیک کام کون کون سے کئے ہیں اور اگر کسی کے نیک اعمال زیادہ ہوں تو سزا معاف کر دی جاتی ہے چنانچہ وہ فرماتا ہےفَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِيْنُهٗ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ( الاعراف :۹)جن کے وزن بھاری ہوںگے یعنی جن کے اعمال نیک اُن کے اعمالِ بد سے بڑھ کر ہوںگے اللہ تعالیٰ انہیں اپنے عفو کی چادرمیں لے لےگا اور اُ ن کے گناہوں سے درگذر فرمائےگا۔پانچویں بات اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ سزا کا فیصلہ کرتے وقت کوئی سفارش قبول نہیں کی جاتی چنانچہ وہ فرماتا ہے وَلَایُقْبَلُ مِنْھَا شَفَاعَۃٌ ( البقرۃ :۴۹) کوئی شفاعت اور سفارش کسی جان کی طرف سے قبول نہیں کی جاتی۔چھٹی بات اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ سزاد یتے وقت اُس کے رحم کا پہلو ہمیشہ غالب ہو تا ہے اور وہ کبھی کسی مجرم کو انتہائی سزا نہیں دیتا بلکہ جب بھی سزا دیتا ہے اس کے جرم سے کم دیتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ ءٍ(الاعراف :۱۵۷)یعنی میری رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔اور ہر چیز میں اس کی طرف سے آنے والی سزا اور عذاب بھی شامل ہے۔