تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 384
اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا يَتَضَرَّعُوْنَ۰۰۷۷حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا اس کے سامنے گریہ و زاری کی۔یہاں تک کہ جب ہم اُن پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو وہ عَلَيْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيْدٍ اِذَا هُمْ فِيْهِ مُبْلِسُوْنَؒ۰۰۷۸ مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے۔حلّ لُغَات۔مُبْلِسُوْنَ۔مُبْلِسُوْنَ اَبْلَسَ سے ہے اوراَبْلَسَ کے معنے ہیں قَلَّ خَیْرُہٗ۔اُس سے بھلائی کی توقع کم ہوگئی۔اِنْکَسَرَ وَحَزِنَ۔شکستہ خاطر اور غمگین ہو گیا اور جب اَبْلَسَ مِنْ رَحْمَۃِاللہِ کہیں تو اس کے معنے ہوںگے یَئِسَ۔وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو گیا۔اور اَبْلَسَ فِیْ اَمْرِہٖ کے معنے ہیں تَحَیَّرَ۔وہ اپنے معاملہ کے بارے میں حیرت میں پڑگیا۔اَبْلَسَ فُلَانٌ کے ایک معنے سَکَتَ غَمًّا کے بھی ہیں یعنی غم و اندوہ کی وجہ سے خاموش ہو گیا۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔ہم تو اپنی صفات کے مطابق چاہتے ہیں کہ ان پر رحم کریں اور ان کی مصیبتوں کو دور کریں۔لیکن ہمیں نظر آرہا ہے کہ اگر ہم ایسا کریں گے تو وہ شرارتوں میں اور بھی بڑھ جائیں گے اور ہمارا یہ دعویٰ بے ثبوت نہیں۔اس قوم پر پہلے بھی عذاب آچکے ہیں مگر پھر بھی وہ اپنے رب کے حضور نہیں جھکی اور اُس نے کوئی عاجزی نہیں دکھائی۔ہاں جب ہمارا آخری سخت عذاب آجائےگا تو اُس وقت وہ مایوس ضرور ہو جائیں گے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتا یا ہے کہ ہم جب بھی کسی قوم پرعذاب نازل کرتے ہیں ہماری اصل غرض اس عذاب سے یہ ہوتی ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور اپنی بد اعمالیوں سے باز آجائیں مگرلوگوں کی یہ کتنی بڑی بد قسمتی ہے کہ وہ عذاب کے آنے پر بھی اپنی اصلاح کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور اپنے دلوںمیں خدا تعالیٰ کی خشیت پیدا نہیں کرتے حالانکہ اگر وہ ذرا بھی خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں تو اللہ تعالیٰ اُن سے اپنے عذاب کو دور کر لے۔یونس ؑ کی قوم کا واقعہ ہمارے سامنے ہے۔بائیبل میں لکھا ہے کہ جب حضرت یونس ؑ نے اعلان کیا کہ چالیس دن کے اندر اندر نینوہ تباہ ہوجائےگا تو نینوہ کے باشندوں نے خدا پر ایمان لا کر روزہ کی منادی کی اور ادنیٰ و اعلیٰ سب نے ٹاٹ اوڑھا اوریہ خبر نینوہ کے بادشاہ کو پہنچی اور وہ اپنے تخت پر سے اُٹھا اور بادشاہی لباس کو اتار ڈالا اور ٹاٹ اوڑھ کر راکھ پر بیٹھ گیا اور بادشاہ اور اُس کے ارکانِ دولت کے فرمان سے نینوہ میں یہ اعلان کیا گیا اور اس بات کی منادی