تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 383
شاید سچ مچ ہی وہاں کوئی دعوت ہو او ر اگر ایسا ہو اتو یہ لڑکے تو گوشت کھا جائیں گے اور میں محروم رہ جائوںگا۔اس خیال کے آتے ہی وہ خود بھی اُس رئیس کے مکان کی طرف دوڑ پڑتا۔یہ ابھی راستہ میں ہی ہوتا کہ آگے سے وہ لڑکے غصّہ میں بپھرے ہوئے آرہے ہوتے اور ادھر سے یہ صاحب ہانپتے کانپتے جاپہنچتے کہ کہیں میں گوشت سے رہ نہ جاؤں وہ اسے دیکھتے تو پکڑ کر خوب مارتے اور کہتے تم نے ہمیں بڑا دھوکا دیا۔یہ مار کھانے کے بعد کہتا تم جو مجھے مارتے پیٹتے ہو اس لئے مجھے دھوکا کرنا پڑتا ہے۔اصل میں فلاںجگہ دعوت تھی مگر میں نے تمہیں بتا یا نہیں۔اس پر انہوں نے پھر اُسے چھوڑ کر اُس طرف کو دوڑ پڑنا۔مگر اُن کے جاتے ہی اس کے دل میں پھر خیال آجانا کہ اگر وہاں سچ مچ دعوت ہوئی تو میں محروم رہ جائوں گا اور یہ لڑکے دعوت اڑا جائیں گے۔چنانچہ اس کے بعد وہ خود بھی اسی طرف کو دوڑ پڑتا۔یہ ابھی راستہ میں ہی ہوتا کہ لڑکے اس طرف سے بھی واپس آرہے ہوتے تھے اور وہ پھر اُسے پکڑ کر مارنا شروع کر دیتے وہ تو بیچارہ فاتر العقل تھا مگر مسلمان جو قرآن کو مانتے ہیں اُن کا یہ حال ہے کہ پہلے ایک بات میں یورپ کے پیچھے دوڑتے ہیں اور جب وہ ناکام ہو کر دوسری سکیم پیش کرتا ہے تو پھر اُس کے پیچھے دوڑنے لگ جاتے ہیں۔دوسری سکیم میں ناکام ہو کر وہ تیسری سکیم پیش کرتا ہے تو پھر اُس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔غرض یورپ آگے آگے ہے اور مسلمان پیچھے پیچھے۔اب سٹالن اور رشیا کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ساری عزت اور ساری ترقی رشیا کے پیچھے چلنے میں ہے۔اس قسم کی غلطیاں اور کمزوریاں اس لئے واقعہ ہوتی ہیں کہ قرآن کریم کو خدا تعالیٰ کا سچّا کلام سمجھ کر نہیں مانا جاتا بلکہ صرف رسمی طور پر اُس پر ایمان رکھا جاتا ہے۔حالانکہ مسلمان اگر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو اُن کے لئے سوائے اس کے اور کوئی راہ نہیں کہ وہ حقیقی طور پر اس بات پر ایمان لائیں کہ ساری برکت قرآن کریم میں ہے اور ساری بر کت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ہے اور اگر ہم ذرا بھی اس سے ادھر اُدھر ہوئے تو ہمیں بھی نقصان پہنچے گا اور ہماری آئندہ نسلیں بھی تباہ ہو ںگی کیونکہ صراط مستقیم پر چلے بغیر کوئی انسان اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا۔وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِيْ اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو ضرر ان کوپہنچ رہا ہے اُسے دُور کردیں تو وہ اپنی سرکشی میں اور بھی بڑھ جائیں۔طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ۰۰۷۶وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اور ہم نے ان کو سخت عذاب میں جکڑ رکھا ہے پھر بھی وہ اپنے رب کے سامنے عاجزانہ طور پر نہیں جھکے اور نہ