تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 382
اگر وہ یکدم جؤا بند کردیں تو انہیں یہ ڈر محسوس ہو تا ہے کہ لوگ کہیں گے آخر تم اسی بات کی طرف آگئے جو اسلام نے پیش کی تھی اس لئے وہ مختلف قیود عائد کرتے چلے جا رہے ہیں۔کہتے ہیں فلاں طرز کا جؤا منع ہے۔اس اس طرح کھیلنا منع ہے۔اگر کھیلنا ہی ہو تو کسی فرم کی معرفت جؤا کھیلا جائے اور اُس کا ریکارڈ رکھا جائے۔غرض کئی قیود ہیں جو وہ عائد کررہے ہیں۔گویا بات وہی آگئی جو اسلام نے کہی تھی کہ جؤا مت کھیلو مگر کھلے بندوں ابھی اسے ماننے کی ہمت اُن میں نہیں۔پھر سزائے موت ہے۔قرآن کریم نے بعض جرموں کے متعلق سزائے موت تجویز کی تو کہا گیا کہ یہ کتنے بڑے ظلم کی بات ہے کہ ایک انسان کی جان لے لی جائے۔ہمارے مسیح نے تو یہ کہا ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دو۔(متی باب ۵ آیت ۳۹)چنانچہ یورپ کے بعض ملکوں نے سزائے موت کو منسوخ کر دیا۔مگر پچیس تیس سال کے بعد انہوں نے پھر قانون بنائے کہ سزائے موت ضرور ہونی چاہیے کیونکہ اس کے بغیر امن قائم نہیں رہتا۔غرض بیسیوں چیزیں ہیں جو اسلام نے پیش کیں اور جن پر مغرب نے ہنسی اُڑائی مگر ایک ایک چیز سے ٹکرانے کے بعد آخر مغرب کو تسلیم کرنا پڑا کہ وہی راہ درست ہے جس پر اسلام دنیا کو چلانا چاہتا ہے اور یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ آج سے تیرہ سو سال پہلے کی کتاب جو ایک اُمی نبی ؐ نے دنیا کے سامنے پیش کی تھی وہ اُسی خدا کا قانون ہے جو فطرت ِ انسانی کا خالق ہے۔وہ جانتا تھا کہ جو مشین میں نے بنائی ہے وہ کس طرح چل سکتی ہے اور اُس کی درستی کے لئے کیا کیا چیزیں ضروری ہیں۔مگر مصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر خود کا مل ایمان نہیں۔وہ یورپ کی ہر بات پر حیران ہو کر اُس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ یورپ ناکام ہو ا تو اس کے بعد انہیں خیال پیدا ہوتا ہے کہ اصل تعلیم تو وہی ہے جو قرآن نے پیش کی مگر اتنے میں یور پ ایک اور بات نکال لیتا ہے اور مسلمان پھر اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ عرب میں ایک فاتر العقل لڑکا تھا جسے اُس کے ساتھی لڑکے ہمیشہ چھیڑتے اور دِق کرتے رہتے۔جب وہ سخت تنگ آجاتا تو اُن سے پیچھا چھڑانے کے لئے کہتا۔ارے تمہیں پتہ نہیں کہ فلا ں رئیس کے ہاں بہت بڑی دعوت ہے۔اُس نے کئی اونٹ اور دُنبے ذبح کئے ہیں اور ہزاروں لوگوں کو کھانا کھلا رہا ہے۔تمہارے ماں با پ اور بھائی بہنیں سب وہاں گئے ہوئے ہیں۔تم اگر یہیں رہے تو گوشت وہ کھا جائیں گے اور تم محروم رہ جائو گے۔لڑکے اُس کی بات سُن کر دھوکے میں آجاتے اور دعوت کھانے کے لئے اُس رئیس کے مکان کی طرف دوڑجاتے اور یہ اُن کی مار سے بچ جاتا۔مگر اُن کے جانے کے بعد اس کے دل میں خیال پیدا ہو تا کہ میں نے تو ان سے جھوٹ موٹ ایک بات کہی تھی