تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 380

شراب کے ایک یادو پیگ عقل کو تیز کرتے ہیں تو امریکہ جو سب سے زیادہ شراب پیا کرتا تھا اُس نے شراب کو ممنوع کرنے کی کیوں کوشش کی ؟ اور پھر ممنوع قرار دینے کے بعد اُسے جائز کیوں کر دیا ؟ یہ بھی ایک ثبوت ہے اس بات کا کہ اسلامی قوانین ہی تمام قوانین سے بہتر ہیں۔امریکہ نے مجبور ہو کر شراب کو ممنوع قرار دیا۔مگر پھر مجبور ہو کر اسی حرام چیز کو اُس نے حلال کر دیا۔اس کی یہ شکست بتا رہی ہے کہ قرآن جو کچھ کہتا ہے اس کے پیچھے خدائی طاقت ہو تی ہے مگر یورپ جو کچھ کہتا ہے اس کے پیچھے کو ئی خدائی طاقت نہیں ہوتی۔اسلام نے کہا کہ شراب حرام ہے اور امریکہ نے بھی کہا کہ شراب حرام ہے مگر اسلام کی حرام کی ہوئی چیز آج تک حرام ہے اور امریکہ نے پندرہ سال کے بعد پھر اسی حرام چیز کو حلال کر دیا۔یہ تفاوت بتا رہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنی بڑی طاقت اور عظمت حاصل تھی۔عرب کے لوگ شراب کے اس قدر عادی تھے کہ وہ اور وقتوں کے علاوہ تہجد کے وقت شراب پینا خاص طور پر فخر کا موجب خیال کیا کرتے تھے (بلوغ الإرب الجزء الاول صفحہ ۳۹۴ تقدیم العرب الایمن فی الشرب)۔اسلام نے اسی وجہ سے اس وقت مومنوں کے لئے تہجد کی نماز مقرر کر دی۔پھر رات کی شراب کے علاوہ اُن کے امراء صبح سے سوتے وقت تک پانچ دفعہ شراب پیا کرتے تھے۔اسلام نے انہی اوقات کے مقابلہ میں مومنوں کے لئے پانچ نمازیں فرض کر دیں۔ان نمازوں میں اور بھی حکمتیں ہیں مگر ایک حکمت یہ بھی ہے کہ انہی اوقات میں عرب کے لوگ شراب پیا کرتے تھے۔ایک دن محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مجلس میں بیٹھے تھے کہ آپ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا۔آج خدا نے کہاہے کہ شراب پینا حرام ہے۔اُس وقت مدینہ کے ایک گھر میں کوئی تقریب تھی جس میں بہت سے لوگ مدعو تھے اور نہایت اعلیٰ درجہ کی شراب کے مٹکے انہوں نے منگوائے ہوئے تھے۔شراب کا ایک مٹکا ختم ہو چکا تھا اور دوسرا دور شروع ہونے والا تھا کہ ایک ڈھنڈور ا پیٹنے والا مدینہ کی گلیوں میں سے گذرا اور اُس نے کہا اے لوگو! سُن لو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج خدا کے حکم سے شراب حرام کر دی ہے۔وہ لوگ جو شراب کا ایک مٹکا پی چکے تھے اُن کے متعلق ہر شخص آسانی سے یہ انداز ہ لگا سکتا ہے کہ وہ کتنے بد مست ہوںگے۔کس طرح اُن کی عقل پر پردہ پڑ چکا ہو گا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کا یہ عالم تھا کہ جونہی اُن کے کانوں میں یہ آواز پڑی وہ چونک اُٹھے اور اُن میں سے ایک نے کہا ارے باہر سے آواز آرہی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے۔دروازہ کھول کر پوچھو تو سہی کہ کیا بات ہے۔دوسرے نے کہا جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حکم ہمارے کانوں میں پہنچ چکا ہے تو اب یہ کیاسوال ہے کہ میں دروازہ کھولوں اور اعلان کرنے والے سے پوچھوں کہ کیا بات ہے۔میں پہلے شراب کا مٹکا توڑوںگا اور پھر اس سے پوچھو ں گا کہ کیا بات ہے ؟ (بخاری