تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 379

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اُس نے آواز دی اور کہا پروفیسر آرنلڈ ادھر آئو۔اس پر وہ آتو گیا مگر مجھے دیکھتے ہی ایک دوسرے راستہ سے نکل گیا۔غرض اس قدر بغض ان کے دلوں میں اسلامی تعلیم سے پایا جاتا ہے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔وہ کہتے ہیں ہم اپنی مرضی سے قانون بنانا چاہتے ہیں اور یہ ہر جگہ روڑا اٹکا دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں اسلام یوں کہتا ہے پس مسلمانوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کی آپس میں کبھی دلی مودّت نہیں ہو سکتی۔ہاں اگر کوئی مسلمان اسلام کو چھوڑ دے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دے اور کہے کہ نعوذباللہ خدا تعالیٰ کو غلطی لگ گئی تھی اُس نے زمانہ کے حالات کو مدّنظر رکھتے ہوئے قانون نہیں بنایا تب بے شک اُس کی یورپ سے مودت ہو سکتی ہے۔مگر جب تک وہ ایک خدا کو مانتا ہے جب تک وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے جب تک وہ قرآن کو خدا تعالیٰ کی کتاب سمجھتا ہے اُس وقت تک ایک مسلمان اور یورپ کی آپس میں دلی مؤدت نہیں ہو سکتی ایک دفعہ میں ہوائی جہازوں کے ایک بڑے افسر سے ملا بعض اور افسربھی اس وقت موجود تھے۔اُس نے باتوں باتوں میں اسلام پر اعتراض کر دیا۔میں نے اُس کا جواب دیا اُس نے پھر اعتراض کیا میں نے پھر جواب دیا غرض اسی طرح وہ اعتراض کرتا چلا گیا اور میں جواب دیتا گیا۔میں جانتا تھا کہ باتوں باتوں میں مَیں اسے اس طرح پھنسائوںگا کہ اس کے اعتراضات کا خدا تعالیٰ سے ٹکرائو ہو جائے گا۔چنانچہ ایک مقام پر آکر وہ پھنس گیا اور میں نے کہا فرمائیے آپ زیادہ عقلمند ہیں یا خدا زیادہ عقلمند ہے ؟ اُس میں کچھ توجوانی کی ترنگ تھی اور کچھ یوں بھی نو تعلیم یافتہ مسلمانوں میں اللہ تعالیٰ کا ادب کچھ کم ہو تا ہے۔تھوڑی دیر وہ خاموش رہا۔مگر پھر کہنے لگا میں سمجھتا ہوں کہ میں زیادہ عقلمند ہوں۔اس پر اُس کے تمام ساتھی ہنس پڑے کہ بے وقوفی کی وجہ سے یہ پھنس تو گیا ہے مگر بے حیا بن کر اب یہ کہہ رہا ہے کہ میں خدا تعالیٰ سے زیادہ عقلمند ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی کتاب ہے۔جب تک وہ یہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھ سے زیادہ عقلمند ہے لازمًا اُسے یورپ کا مقابلہ کرنا پڑے گا اور اس مقابلہ میں آخر یہی ظاہر ہو گا کہ یورپ ہارا اور اسلام کا خدا جیتا۔شراب کے متعلق ہی دیکھ لو۔کس طرح یہ اعتراض کیا جاتا تھا کہ اسلام انسان کی علّوِ حوصلگی کو نہیں سمجھتا وہ فطرت کے نازک جوہروں کو نہیں پہچانتا۔وہ سمجھتا ہے کہ شراب صرف اسی طرح پی جاتی ہے کہ انسان بد مست ہو کر بکواس کرنے لگ جائے۔و ہ ایشیائی لوگ تھے جو اس طرح شراب پیا کرتے تھے۔ہمارے یورپ کے لوگ وحشی نہیں وہ صرف ایک یا دو پیگ پیتے ہیں جس سے اُن پر کوئی بد حواسی طاری نہیں ہوتی اور ان کی عقل ٹھکانے رہتی ہے۔مگرپھر وہی امریکہ جو اسلام پر اعتراض کیا کرتا تھا اُس نے قانون بنایا کہ شراب نوشی قطعًا ممنوع کی جاتی ہے۔اگر