تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 381
کتاب اخبارالاحاد باب ما جاء فی اجازۃ خبر الواحد الصدوق)ادھر امریکہ جو عرب کو وحشی قرار دیتا ہے اور جس کے ڈر کے مارے بعض مسلمان بھی اپنی نادانی سے یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ عرب ایک غیر مہذب اور نا تربیت یافتہ قوم تھی وہ دوسروں کی بات ماننے کے لئے آسانی سے تیار نہیں ہوتے تھے۔محض ان کی خاطر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرتِ ازدواج کی تعلیم دے دی یا ایسے ہی اور احکام دے دئیے اُس ملک کی اکثریت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ شرا ب بُری چیز ہے۔اس ملک کے سائینسدان یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ شراب بُری چیز ہے۔اس ملک کے ڈاکٹر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ شراب بُری چیز ہے۔اس ملک کی آئین ساز حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ شراب بُری چیز ہے اور وہ اس کے خلاف ملک میں قانون پاس کرتے ہیں مگر اس زمانہ کا وہ تعلیم یافتہ اور مہذب آدمی جو عرب کو جاہل قرار دیتا ہے جو محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر اعتراض کیا کرتا ہے خود اتنا جاہل ہو جاتا ہے کہ وہ پھر بھی شراب نہیں چھوڑ سکتا بلکہ اس قانون کے بعد لوگ اتنی گندی شرابیں پینے لگ گئے کہ ملک میں ایک ہیجان بر پا ہو گیا۔یہا ں تک واقعات ہوئے کہ لوگوں نے جوش میں آکر میتھیلیٹڈ سپرٹ پینی شروع کر دی اور اندھے ہوگئے ( میتھیلیٹڈ سپرٹ ایک قسم کی شراب ہے جس میں میتھل جو زہرہے ملایا جاتا ہے تاکہ لوگ اس کو پی نہ سکیں اور صرف چولہے میں جلانے کے کام آئے ) یہ وہ سمجھ دار لوگ ہیںجو موجودہ زمانہ میں اپنی تہذیب کا ڈھنڈ ورا پیٹتے پھرتے ہیں۔اور وہ نعوذ باللہ ’’ جاہل اور بد تہذیب ‘‘ عرب تھے جن کی زبان سے بد مستی کی حالت میں بھی اگر کوئی فقرہ نکلا تو یہ کہ یہ کیا سوال ہے کہ میں دروازہ کھولوں او ر دریافت کروں کہ کیا بات ہے۔کیا شراب کے مٹکے کی زیادہ قیمت ہے یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی زیادہ قیمت ہے۔جب ایک آواز ہمارے کانوں میں پہنچ چکی ہے تو اب میں پہلے مٹکا توڑوں گا اور پھراس سے دریافت کروںگا کہ کیا بات ہے اگر بات غلط نکلی تو ہم اور شراب منگوالیں گے اور اگر ٹھیک نکلی تو ہم اس فخر سے اپنا سر اونچا کر سکیں گے کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو سُنتے ہی اُس پر عمل کر لیا۔ُ پھر جؤا ہے۔دنیا نے اسلام کے اس حکم پر بھی کہ جؤا مت کھیلو ہنسی اُڑائی۔انگریز ساری کی ساری جٔوا باز قوم تھی مگر آج کوئی ملک دکھائو جس میں جؤے کے متعلق قانون نہ بن رہے ہوں۔وہ ابھی کھلے طور پر اسے چھوڑ نہیں سکے مگر اسلام کی بر تری اور اُس کی فضیلت کی یہ کتنی بیّن دلیل ہے کہ اسلام نے آج سے تیرہ سو سال پہلے جو حکم دیا تھا مغرب رفتہ رفتہ بعض قیود اور شرائط عائد کرتے ہوئے اس کی طرف آرہا ہے۔مگر کھلے طور پر جؤے کو ممنوع قرار دینے میں ابھی اُسے شرم آتی ہے۔جیسے ذوقؔ کہتا ہے ؎ بعد مدت کے گلے ملتے ہوئے آتی ہے شرم اب مناسب ہے یہی کچھ تم بڑھو کچھ میں بڑھوں