تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 378

اُن کی یہ حالت کیوں ہوتی۔میں نے اُسے جواب میںلکھا کہ تم مجھے مت کو سو۔میں تو لوگوں سے کہتا رہتا ہوں۔ملامت کرنی ہے تو اپنے لوگوں کو کرو جو اس پر عمل نہیں کرتے۔اب دیکھو یہ کثرت ِ ازدواج کا مسئلہ ہے جو اسلام نے پیش کیا۔یہ کتنا اہم مسئلہ تھا۔مگر مسلمانوں نے اس کو کس طرح فراموش کر دیا اور وہ بھی عیسائیوں اور ہندوؤں اور دوسرے مذاہب والوں سے ڈر کر حالانکہ قرآن کریم میں بار بار آتا تھا کہ عیسائی اور یہودی تمہارے دشمن ہیں۔تم ان کی باتیں کبھی نہ ماننا۔آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک لچکدار قانون ہو اور ایک غیر لچکدار اور پھر ان قانونوں کو ماننے والی قومیں اکٹھی رہ سکیں۔ایک عیسائی اپنی قوم کی حالت دیکھے گا تو فوراً کہےگا کہ اس کے لئے یوں قانون بنائو۔مگر مسلمان کہےگا قانون ہم نے بنانا ہے یا خدا نے۔قانون تو وہ بنا چکا۔اب ہمارا اختیار نہیں کہ ہم اس کے مقابلہ میں کوئی اور قانون بنائیں۔اس پر وہ کہےگا۔تم پاگل ہو تم حالات کو نہیں سمجھتے۔ایک پُرانے قانون کی رٹ لگا ئے چلے جارہے ہو۔اس طرح قدم قدم پر ہمارا اور اس کا اختلاف ہو جائےگا۔ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ کے قانون کو چھوڑنا بے وقوفی ہے اور اُس کے نزدیک خدا تعالیٰ کے قانون پر عمل کرنا بے وقوفی ہے۔ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ کا قانون آج سے تیرہ سو سال پہلے نازل ہو چکا تھا اب قیامت تک کوئی اور قانون نازل نہیں ہو سکتا مگر اُس کے نزدیک اب نئے قانون کی ضرورت ہے۔نئے نظریات اور نئے مسلّمات کی اُس کو جستجو ہے۔جب وہ ہم میں اس قدر اختلاف دیکھتا ہے تو وہ ہمارے نقطۂ نگاہ کا دشمن ہو جاتا ہے اور اُس کی یہ دشمنی ایک ایک قدم پر ظاہر ہو جاتی ہے۔۲۴ ء میں جب مَیں ولایت گیا تو سرَتھامس آرنلڈ جو علی گڑھ میں پروفیسر رہ چکا تھا اور اُس وقت وہ مشرقی افریقہ کا گورنر تھا اور وہیں سے آیا تھا ایک میٹنگ میں شامل ہو اجس میں مَیں بھی شریک تھا۔اُس وقت بعض عورتوں نے مجھ سے مصافحہ کرنا چاہا تو میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ اسلام میں عورتوں سے مصافحہ کرنا جائز نہیں۔میری یہ بات اُس پر طبعًا گراں گذری۔اور اُس نے بعد میں کہنا شروع کر دیا کہ میں اسلام کا بڑا ماہر ہوں۔بہت بڑا مصّنف ہوں اسلام میں ایسی کہیں تعلیم نہیں۔اس کے بعد کچھ طالب علم میرے پاس آئے اور انہوں نے ذکر کیا کہ پروفیسر آرنلڈ اس طرح ذکر کرتا تھا۔کیا اسلام میں عورتوں سے مصافحہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ میں نے انہیں تفصیل سے اسلام کی تعلیم بتائی اور کہا کہ اسلام عورتوں سے مصافحہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اس پر پروفیسر آرنلڈ کے دل میں میرے متعلق اس قدر بغض پیدا ہو گیا کہ جب کوئی میٹنگ ہوتی تو وہ میری موجودگی میں اُس میں شامل نہیں ہوتا تھا۔ایک دفعہ وہ میٹنگ میں تو آیا مگر مجھ سے دُور دُور رہا۔میں نے سکرٹری سے ذکر کیا کہ پروفیسر آرنلڈ محض میری وجہ سے آگے نہیں آتا۔اُس نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے میں ابھی اُسے بلواتا ہوں میں نے کہا۔آ پ دیکھ لیں وہ میرے سامنے نہیں آئےگا