تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 374

دیتے ہیں تو جن لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ اسلام نے شراب کے کچھ فوائد بھی تسلیم کئے ہیں وہ جھٹ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اسلام نے ایسی اچھی چیز کیوں حرام قرار دے دی ہم نے تو دیکھا ہے کہ فلاں کی نبضیں چھوٹ چکی تھیں مگر برانڈی دیتے ہی اُس کی مردہ نبض میں حرکت ہو نے لگی اور اُس کے جسم میں جان پڑگئی۔ایسے لوگوں کے سامنے ہم قرآن کھول کر رکھ دیتے ہیں کہ تم نے تو یہ شراب کا فائدہ آج معلوم کیا ہے مگر ہمارے قرآن نے آج سے تیرہ سو سال پہلے بتا دیا تھا کہ اس میں محض خرابی ہی خرابی نہیں بلکہ فوائد بھی ہیں مگر چونکہ اس کے نقصانات زیادہ ہیں اور چونکہ اس میں بڑا بھاری نقص یہ ہے کہ جب کو ئی شخص اسے پینا شروع کر تا ہے تو اُس کی اعلیٰ دماغی طاقتیں ناکارہ ہو نے لگتی ہیں اور پھر اُسے شراب کی ایسی عادت ہو جاتی ہے کہ وہ اُسے چھوڑ نہیں سکتا اس لئے اسلام نے اسے حرام قرار دے دیا۔یہ ہو سکتا ہے کہ سو میں سے ایک آدمی ایسا ہو جسے شراب پینے کے باوجود اس کی عادت نہ پڑے مگر سو میں سے نناوے یقیناً اس کے عادی ہو جائیں گےاور ایک کی خاطر نناوے کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔جب سو میں سے نناوے آدمی اس سے خراب ہو جاتے ہیں تو ضروری تھا کہ اس ایک کو نناوے پر قربان کیا جاتا نہ کہ نناوے کو ایک کے لئے قربان کیا جاتا آخر ہر زمانہ کا مقنّن یہ کس طرح ثابت کر سکتا ہے کہ فلاں شخص زیادہ مضبوط ہے اور فلاں شخص کم۔فلاں شخص میں شراب کو بر داشت کرنے کی زیادہ طاقت ہے اور فلاں میں نہیں۔ہر شخص کے متعلق نہ اس قسم کی تحقیق ہو سکتی ہے اور نہ ایسی تحقیق یقینی کہلا سکتی ہے۔اس لئے اسلام نے ایک قانون مقرر کر دیا کہ شراب حرام ہے کیونکہ نناوے فیصدی اس کا نتیجہ یہی پیدا ہو تا ہے کہ پینے والے کو شراب کی عادت پڑ جاتی ہے اور پھر وہ اُسے چھوڑ نہیں سکتا۔پس اس مسئلہ میں بھی اسلام نے جو راہ اختیار کی وہی درست ہے نہ کہ وہ راہ جو یورپ نے اختیار کی۔پھر کثرت ازدواج کا مسئلہ ہے۔قرآن نے اس مسئلہ کو بیان کیا مگر مسلمانوں نے عیسائیوں اور یو روپین مصّنفین کے ڈر کے مارے یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ تو عربوں کے زمانہ کی بات تھی۔چونکہ عربوں کے رسم و رواج میں یہ بات شامل تھی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُن کی دلداری کرتے ہوئے اس تعلیم کو جاری کر دیا۔مَیں ایک دفعہ شملہ گیا۔وہاں درد صاحب مرحوم جو میرے پرائیویٹ سیکرٹری تھے اُن کی طرف سے ایک دعوت ِ عصرانہ میری ملاقات کے لئے گورنمنٹ کے بڑے بڑے افسروں کو دی گئی۔میں وہاں بیٹھا تھا کہ مسلمانوں کے ایک بہت بڑے رئیس جنہیں سَر کا خطاب بھی ملا ہو اتھا مسٹر مترا کے ساتھ جو لاء ممبر تھے کمرہ میں داخل ہوئے وہ آپس میں کچھ باتیں کرتے آرہے تھے جب و ہ کمرہ میں داخل ہوئے تو میرے کانوں میں اُن کی یہ آواز پڑی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم نہیں تھا کہ گائے کے سوال پر ہندوؤں میں اس قدر خفگی پیدا ہو گی ورنہ قرآن میں وہ اس کو ضرور حرام قرار دے