تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 373

پھر اسلام نے اگر طلاق کا مسئلہ رکھا تھا تو اُس کے ساتھ کئی قسم کی شرطیں لگا دی تھیں جو عورت کے حقوق کی حفاظت کرتی تھیں۔مگر یورپ کے بڑے بڑے فلسفیوں اور مقنّنوں نے اس پر ہنسی اڑائی اُن کی کتابوں کے ہزاروں صفحات ان اعتراضوں سے بھرے ہوئے ہیں کہ اس سے عورت اور مرد کی محبت کے حقوق کو تلف کر دیا گیا ہے۔ان کے جذبات کو کچل دیا گیا ہے اور ان کی زندگی کو تباہ کر دیا گیا ہے۔مگر اب انہی ہنسی اڑانے والوں کی یہ حالت ہے کہ اُن کے ملکوں میں اس کثرت کے ساتھ طلاق کا رواج ہے کہ ٹائمز آف لنڈن میں مَیں نے ایک دفعہ خبر پڑھی کہ امریکہ کی فلاں عورت مری تو اس کے جنازہ میں گیارہ خاوند شریک ہوئے۔میں اس خبر کو پڑھ کر حیران رہ گیا کہ گیارہ خاوندوں کے کیا معنے ہیں۔نیچے تفصیل پڑھی تو لکھا تھا کہ اس عورت نے اٹھارہ خاوند کئے تھےجن میں سے سترہ سے اس نے طلاق لے لی۔اُن سترہ میں سے چھ مر گئے باقی گیارہ زندہ تھے جو اس احترام میں کہ کسی وقت یہ ہماری بیوی رہ چکی ہے اُس کے جنازہ میں شریک ہوئے۔پھر علیحدگی کی جو وجوہ بیان کی گئی تھیں وہ اور بھی حیرت انگیز تھیں۔ایک وجہ یہ لکھی تھی کہ اُس کی عورت نے عدالت میں درخواست د ی کہ میرا خاوند گھر میں آتاہے تو مجھے چومتا نہیں۔اس پر مجسٹریٹ نے لکھا۔اُف اتنا غضب یہ خاوند ہر گز عورت رکھنے کا مستحق نہیں۔میں اس کی علیحدگی کے حق میں فیصلہ دیتا ہوں۔ایک اور وجہ یہ لکھی تھی کہ عورت نے جج سے کہا میں نے ایک ناول لکھا ہے مگر میرا خاوند کہتا ہے یہ سخت بیہودہ ہے۔اس پر مجسٹریٹ لکھتا ہے یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ اب علیحدگی کے سوا اور کوئی چارہ ہی نہیں۔اسی طرح اور کئی وجوہ لکھی تھیں۔اب انگلستان میںبھی آہستہ آہستہ طلاق کو نرم کیا جا رہا ہے۔مگر نتیجہ یہ ہے کہ اب امریکہ چلاّ رہا ہے کہ ہمارے ملک میں طلاق اتنی سستی ہو گئی ہے کہ گھر بر باد ہو گئے ہیں۔خاوند دفتر سے چڑا ہوا آتا ہے اور وہ اپنی بیوی سے ذرا اونچا بولتا ہے تو بیوی اٹھتی ہے اور گھر سے باہر چلی جاتی ہے۔پوچھو کہ کہاں جا رہی ہو تو کہتی ہے عدالت میں جارہی ہوں تاکہ خاوند سے علیحدگی کا فیصلہ کراؤں۔غرض اس مسئلہ میں بھی یورپ نے اسلام سے ٹکرا کر بہت بُری طرح شکست کھائی۔اگریورپ کے فلاسفر بڑے بڑے اعلیٰ فلسفے بنا سکتے ہیں تو اُن کا یہ چھوٹا سا فلسفہ زیادہ اچھا ہو نا چاہیے تھا۔کیونکہ چھوٹی چیز زیادہ آسانی سے بن جاتی ہے اور بڑی چیز بنانی مشکل ہو تی ہے۔مگر اس چھوٹے سے فلسفے میں بھی اسلام سے ٹکرا کر یورپ کی جو حالت ہوئی ہے وہ آج ساری دنیا پر ظاہر ہے۔پھر شرا ب کو لے لو۔اسلام نے کہا ہے کہ شراب مت پیٔو۔مگر ساتھ ہی اُس نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ شراب کلی طور پر خراب ہے شراب اور جوئے میں فوائد بھی ہیں مگر چونکہ ان کی مضر تیں زیادہ ہیں اور فوائد کم ہیں اس لئے ہم یہ چیزیں تمہارے لئے حرام قرار دیتے ہیں (البقرۃ:۲۲۰۔المائدۃ:۹۱)۔اب ڈاکٹر بعض مریضوں کو شراب