تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 371
الخبر عمّا کان من امر نبی اللہ و السیرۃ النبویۃ لابن ہشام مباداة رسول اللہ قومہ وما کان منھم و ما دار بین رسول اللہ و رؤساء قریش ) اس واقعہ سے مکّہ والے سمجھ سکتے تھے کہ محمد رسول اللہ اُن سے اپنی ذات کے لئے کوئی مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ جو کچھ کہہ رہے ہیں خود اُن کی اصلاح اور ترقی کے لئے کہہ رہے ہیں۔پھر اس کے علاوہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان نشان کو بھی دیکھ سکتے تھے کہ محمدؐر سول اللہ اکیلا اور بے یارو مدد گار تھا۔کوئی اُس کا ساتھی نہیں تھا کوئی اس کا ہم نوا نہیں تھا کوئی اُسے دشمنوں کے حملوں سے بچانے والا نہیں تھا کوئی اُسے مالی مدد دینے والا نہیں تھا۔مگر جونہی خدا تعالیٰ کی آواز اُس کی زبان سے بلند ہوئی اُس آواز نے لوگوں کے قلوب میں ایک ارتعاش پیدا کرنا شروع کر دیا۔سعید طبع لوگوں پر ملائکہ کا نزول شروع ہو گیا اور اُن کے دلوں میں اسلام کی رغبت اور محبت پیدا ہوئی یہاں تک کہ آپ پر ایما ن لانے والے جو پہلے انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے سینکڑوں سے ہزاروں اور پھر ہزاروں سے لاکھوں کی تعداد تک جا پہنچے اور اب اس زمانہ میں تو کروڑوں تک پہنچ گئے ہیں۔ہر قسم کی مالی اور جانی قربانیاں کرنے والے نوجوان آپ کے گر دجمع ہو گئے۔جہاندیدہ اور تجربہ کار بڈھے آپ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئے۔مالدار اور ذی وجاہت خاندانوں کے چشم و چراغ آپ پر اپنی جانیں قربان کرنے لگ گئے۔عوام جو ملک کی ریڑ ھ کی ہڈی کہلاتے ہیں وہ آپ کے دائیں اور بائیں پر وانوں کی طرح اپنی فدائیت اور جاں نثاری کے مظاہرے کرنے لگے۔دولت آپ کے قدموں پر نثار ہو نے لگی اور حکومت کی عنان آپ کے مقدس ہاتھوں میں آگئی۔یہ سب کچھ خدائے قادر و برتر کا ایک زندہ نشان تھا جو اُس نے آپ کی صداقت کے لئے ظاہر کیا مگر بد قسمت لوگوں نے پھر بھی آپ کو شناخت نہ کیا۔وہ آنکھیں رکھتے ہوئے نابینا ہو گئے اور کان رکھتے ہوئے بہرے ہوگئے اور دل رکھتے ہوئے عقل اور سمجھ سے بیگانہ ہو گئے۔پھر فرماتا ہے اگر یہ نشان بھی اُن کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں تھا تو وہ اتنا توسوچتے کہ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ تُو انہیں صراط مستقیم کی طرف بلا رہا ہے۔جس میں خود اُن کا اپنا فائدہ ہے۔مگر یہ لوگ اُس راستہ کو ترک کر کے ایک غلط راہ اپنے لئے اختیار کر رہے ہیں۔جس کا نتیجہ بہر حال یہی ہوگا کہ وہ نقصان اٹھائیں گے اور اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو ہلاکت میں ڈالیں گے۔کیونکہ سیدھے راستہ کو ترک کرکے کبھی کوئی قوم نجات حاصل نہیں کر سکتی۔یہ آیت اسلام کی صداقت اور محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راستبازی کا اتنا کھلا ثبوت ہے کہ اس پر جتنا بھی غور کیا جائے اتنی ہی اسلام کی صداقت اور اُس کی حقانیت واضح ہوتی ہے۔اسلام تیرہ سو سال سے دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کر رہا ہے کہ صراطِ مستقیم وہی ہے جس کی طرف محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بُلا رہے ہیں اور یہ کہ دنیا