تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 370

وَ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ سچّے راستہ سے لَنٰكِبُوْنَ۰۰۷۵ ہٹنے والے ہیں۔حلّ لُغَات۔خَرْجًا۔اَلْخَرْجُ : اَلْخَرَاجُ یعنی خرج کے معنے لگان کے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے تُو ان سے کچھ مانگتا تو نہیں کہ ان پر تیری تعلیم کا قبول کرنا گراں گذررہا ہے۔اگر تُو ان سے اپنی ذات کے لئے کچھ مانگتا تو کوئی بات بھی تھی مگر تیرا بوجھ تو سارا تیرے رب نے اٹھایا ہوا ہے۔اور اسی کا بوجھ اُٹھانا اور رزق دینا سب سے بہتر چیز ہے۔پھر کیایہ اتنا بڑا نشان دیکھنے کے بعد بھی آنکھیں نہیں کھولتے اور تیری صداقت کو تسلیم نہیں کرتے ؟ یعنی ان کے راستہ میں سب سے بڑی روک یہ ہے کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید محمدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی ذاتی وجاہت اور برتری کے حصول کے لئے بتوں کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں حالانکہ اگر وہ اپنی ذاتی برتری کے لئے جدوجہد کر رہے ہوتے تو مکہ والوں سے کبھی تو کچھ مانگتے مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو یہ کیفیت تھی کہ خود مکّہ والوں نے آپ کو پیغا م بھجوایا کہ اگر آپ کو حکومت اور سرداری کی خواہش ہے تو ہم سب آپ کو اپنا سردار ماننے کے لئے تیار ہیں۔اگر دولت کی خواہش ہے تو ہم اپنی دولت جمع کرکے آپ کو دینے کے لئے تیار ہیں کہ سارے عرب میں آپ سے بڑھ کر کوئی دولت مند نہ ہو۔اور اگر کسی حسین اور خوبصورت لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش ہے تو ہم سب اعلیٰ اور معزز گھرانے کی حسین ترین لڑکی آپ کے عقد کے لئے پیش کرنے کو تیار ہیں اور اس کے بدلہ میں ہم آپ سے صرف اس بات کی خواہش کرتے ہیں کہ آپ ہمارے بتوں کو بُرا بھلا نہ کہیں۔اسی طرح ایک مرتبہ رؤسائے قریش ابوطالب کے پاس آئے اور یہ درخواست کی کہ آپ اپنے بھتیجے کو ہمارے بتوں کو گالیاں دینے سے روک لیں اور جب ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھ پر اور اپنی جان پر رحم کرو اور ظاہر کیا کہ مجھ میں ساری قوم کی مخالفت کی طاقت نہیں ہے تو آپ نے فرمایا۔اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند میرے بائیں بھی لاکر کھڑا کر دیں تب بھی میں اُس پیغام کو نہیں چھوڑ سکتا جس پیغام کا پہنچانا خدا نے میرے سُپرد کیا ہے (دیکھو المواہب اللدنیۃ جلد ۱ صفحہ ۴۸ و طبری جلد ۲ صفحہ ۴۰۸ تا۴۱۰ ذکر