تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 372
جب بھی اس کے خلاف کسی اور راستہ پر چلے گی وہ تباہ و برباد ہوگی اور واقعات شہادت دیتے ہیں کہ ہمیشہ یہی دعویٰ سچا ثابت ہو رہا ہے۔چنانچہ دیکھ لو اس وقت تک یورپ کے مختلف نظریے اسلام سے ٹکرا چکے ہیں۔جن میں سے بعض مذہبی ہیں اور بعض سیاسی اور اقتصادی۔مگر ہر نظریہ میں یورپ نے بہت بُری طرح شکست کھائی ہے اور آخروہ اُسی راستہ کی طرف آیا ہے جو اسلام نے پیش کیا تھا۔مذہبی نظریوں میں سے سب سے بڑا توحید کا عقیدہ ہے۔جب عیسائیوں نے ترقی کی تو انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے تھے اور ہر قسم کے بشری حوائج اپنے اندر رکھتے تھے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ نعوذباللہ خدا اور خداکے بیٹے تھے اور مسلمانوں سے اس عقیدہ میں انہوں نے لڑائی شروع کر دی۔یورپ کا یہ حملہ اتنا شدید تھا کہ مسلمانوں نے بھی بعض باتوں میں اُن کی ہمنوائی اختیار کر لی اور کہنے لگے کہ حضرت مسیح ؑ خدا تو نہیں تھے مگر کسی حد تک وہ علمِ غیب ضرور رکھتے تھے۔وہ مُردوں کو بھی زندہ کر لیا کرتے تھے۔کچھ جانور بھی وہ پیدا کر لیا کرتے تھے۔اس طرح آہستہ آہستہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی کئی صفات حضرت مسیح ؑ کی طرف منسوب کر دیں اور وہ بھی عیسائیت کی تقویت کا موجب بن گئے۔مگر یورپ اور اسلام کی اس ٹکر کا نتیجہ کیا ہوا؟ عیسائی اسلام سے ٹکرائے اور اس لئے ٹکرائے کہ وہ اسلام کو مسیحت کا شکار بنائیں۔مگر اس ٹکرائو کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہی یورپ جو توحید پر حملہ کیا کرتا تھا۔وہی یورپ جو تثلیث کا پر ستار تھا آج اپنے مُنہ سے توحید کا اقرار اور تثلیث کا انکار کر رہا ہے۔یہ الگ سوال ہے کہ قومی لحاظ سے یورپ کیا کہہ رہا ہے۔یوں انفرادی رنگ میں اُن سے پوچھ کر دیکھو کہ کیا تم مسیح ؑ کو خدا مانتے ہو۔تو وہ صاف کہہ دیں گے کہ ہم تو توحید کے قائل ہیں اور ہم اگر مسیح ؑ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں تو صرف ان معنوں میں کہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب اور راستباز انسان تھے۔غرض مغرب اس عقیدہ میں اسلام سے ٹکرایا مگرآخر اسلام ہی غالب آیا اور مغرب اپنے نظریہ میں ناکام ہوا۔یہ انہی لوگوں کا نظریہ تھا جنہوں نے تو پیں بنائیں۔ریلیں ایجاد کیں۔ہوائی جہاز بنائے اور دنیا پر اپنی عظمت کا سکّہ بٹھایا۔لیکن اسلام سے ٹکرا کر اُن کے لئے اپنی شکست ماننے کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہا۔پھر عملی نظریوں میں سے ایک طلاق کا مسئلہ ہے جو اسلام نے پیش کیا اور جس پر مغرب نے مدتوں ہنسی اڑائی۔بڑے بڑے مقنّن اور ماہر فنون جو یورپ میں چوٹی کے آدمی سمجھے جاتے ہیں اُن کی کتابوں میں طلاق پر ہنسی اڑائی گئی ہے اور کہاگیا ہے کہ یہ بڑی بے حیائی کی بات ہے کہ مردا پنی عورت کو چھوڑ دے اور پھر وہی عورت ایک دوسرے گھر میں جا کر اپنی زندگی بسر کر نے لگے۔مگر اب پچھلے تیس سال سے یورپ کے ہر ملک میں طلاق کے قانون پاس ہونے لگے ہیں اور وہی مسٔلہ جس کی مخالفت کی جاتی تھی اُس کی تائید کی جا رہی ہے۔