تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 358

اچھا قانون بنا ئے گی اور خدا ویسا قانون نہیں بنائے گا۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ ایک دھیلے سے زیادہ شکر آتی ہے اور اشرفی سے کم آتی ہے۔بلکہ دھیلے اور اشرفی میں تھوڑی بہت نسبت بھی ہے۔خدا اور بندے میں تو کوئی بھی نسبت نہیں۔خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ اپنے بندوں کے حالات کو خوب جانتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ان کے لئے کونسی چیز مفید ہے اور کونسی مضر۔پس یہ ہو ہی کس طرح سکتا ہے کہ اس کا قانون ناقص ہو اور لوگوں کے قانون ہر قسم کے نقائص سے پاک ہوں۔مگر فرماتا ہےلِقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ۔یہ نکتہ صرف ان لوگوں کی سمجھ میں آسکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی باتوں پر یقین لانے کی کوشش کرتے ہوں اُن لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتا جو سنتے ہی اُن کو ردّ کر دیتے ہوں۔پھر فرماتا ہےيٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِيَآءَ۔اے مسلمانو ! جن دنوں اسلام پر یہ آفت آنے والی ہے اُ ن دنوں یہو د اور انصاریٰ کا غلبہ ہوگا اور انہی لوگو ں کی طرف سے اسلام کے مقابلہ میں نئی نئی سکیمیں پیش کی جائیں گی۔اس لئے تم کبھی اُن کو اپنا دوست مت سمجھنا۔کبھی یہ خیال نہ کرنا کہ وہ تمہاری خیر خواہی اور ترقی کے لئے یہ سکیمیں تمہارے سامنے پیش کر رہے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو اس وقت یا یہود تھیوری دنیا میں کا م کر رہی ہے ، یا عیسائیت کی تھیوری دنیا میں چکر لگا رہی ہے۔لینن جو کمیونزم کا بانی تھا یہود ی تھا اور سٹالن بھی یہودی تھا۔اسی طرح فرائیڈ جس کے فلسفہ نے دنیا پر بہت بُرا اثر ڈالا ہے وہ بھی یہودی تھا۔اس کے مقابلہ میں کچھ عیسائی ہیں جو اپنے اپنے فلسفے پیش کر رہے ہیں۔غرض اس وقت مغرب کی طرف سے جس قدر فلسفے آرہے ہیں وہ یا تو یہودیوں کے بنائے ہوئے ہیں یا عیسائیوں کے بنائے ہوئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہےيٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِيَآءَ۔اُس زمانہ کے یہود اور نصاریٰ تمہارے سامنے بڑی بڑی خوبصورت سکیمیں بنا کر پیش کریں گے اور وہ تمہیں اپنے پیچھے چلانا چاہیں گے مگر ہم تمہیں یہی نصیحت کرتے ہیں کہ تم اُن کو کبھی اپنا دوست نہ سمجھنابَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ اُن کی یہ سکیمیں محض اپنے مفاد کے لئے ہیں۔ان سکیموں سے اُن کو تو کچھ نہ کچھ فائدے پہنچ جائیں گے مگر وہ تمہارے لئے کسی صورت میں بھی فائدہ بخش نہیں ہوںگےوَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ اور یاد رکھو اگر تم میں سے کسی نے اُن کی دوستی اختیار کی تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ ہر گز مسلمان نہیں سمجھا جائےگا وہ یہودی ہو گا یا عیسائی ہوگا۔اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ اور یقیناً جو لوگ کسی مذہب کو قبول کرکے اُس سے غداری کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ظالم ہیں اور تم یہ سمجھ لو کہ ظالم کو ہم کبھی چھوڑا نہیں کرتے بلکہ اُسے ضرور سزا دیتے ہیں۔یہ آیات بھی وَ لَدَيْنَا كِتٰبٌ يَّنْطِقُ بِالْحَقِّ کی تفسیر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان میں یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ جب قرآن کریم میں سارے احکام موجود ہیں اور ہم نے کوئی ایسی بات نہیں چھوڑی جو تمہاری ترقی کے لئے ضروری تھی تو