تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 357
آنا ہے اس لئے ہم تمہیں اگلے جہان میں اونچے مقامات عطا کریں گے کیونکہ تم نے دنیامیں ہماری بات کو اونچا کرنے کی کوشش کی۔اس کے بعد فرماتا ہے وَ اَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ ہم پھر دوبارہ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا دم بھرنے والو! تم لوگوں کے سامنے اُس قرآن کو پیش کرو جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اور دوسرے لوگ جو اپنی عقلوں سے سکیمیں بنا بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں ان کے پیچھے ہر گز نہ چلو۔وَ احْذَرْهُمْ اَنْ يَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكَ اور اس سے ڈرو کہ اگر تم نے قرآن کو نہ سمجھا اور اُس کی سکیموں پر عمل نہ کیا تو تم میں سے بھی کمزور ایمان والے لوگ اُن ناقص سکیموں کے پیچھے چل پڑیں گے جو دنیا کی طرف سے پیش کی جارہی ہیں اور قرآ ن کریم کو چھوڑ دیں گے۔چنانچہ دیکھ لو یہ نتیجہ آج ظاہر ہو چکا ہے۔اعلیٰ درجہ کی تعلیم مسلمانوں کے پاس موجود تھی مگر چونکہ انہوں نے اس پر عمل نہ کیا اس لئے خود مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہو گیا کہ انہیں اپنی قومی ترقی کے لئے قرآن کریم کے علاوہ کسی اور سکیم کی بھی ضرورت ہے۔اس کے بعد چونکہ یہ سوال پیدا ہو سکتا تھا کہ وہ لوگ تو اپنی سکیموں کے متعلق بڑے بڑے جتھے اور پارٹیاں بنائیں گے۔کہیںایسا نہ ہو کہ ہم اُن کے مقابلہ میں فیل ہو جائیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّصِيْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ اگر تم اسلام کے احکام پر عمل کرو گے تو باوجود اس کے کہ وہ تم سے زیادہ طاقتور ہوںگے اگر انہو ں نے اسلام کی تعلیموں کو اختیار نہ کیا تو خدا تعالیٰ اُن کے گناہوں کی وجہ سے اُن کو کچل ڈالےگا وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ اور یہ مت دیکھا کرو کہ وہ اچھی سکیمیں بنا کر پیش کر رہے ہیں اگر تم غور سے کا م لو تو تم دیکھو گے کہ صرف اپنے جتھہ اور اپنی پارٹی کی مضبوطی اُن کے مدنظر ہے یہ نہیں کہ ساری دنیا کو فائدہ پہنچا نا اُن کا مقصود ہے پھر فر ما تا ہے۔اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ۔کیا وہ جاہلیت کے فیصلوں کو پسند کر تے ہیں ! اگر وہ جاہلیت کے فیصلوں کو ہی پسند کرتے ہیں تو بے شک کریں ایک سچا مومن بہرحال خدا تعالیٰ کی بات ہی مانے گا۔کسی اور کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔پھر فرماتا ہے اے مومنو!تم سوچو تو سہی اگر واقعہ میں خدا تعالیٰ نے یہ کتاب نازل کی ہے تووَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ۔خدا تعالیٰ سے بہتر اور کون سکیمیں پیش کر سکتا ہے اور اُس کی تعلیم سے بہتر اور کس کی تعلیم ہو سکتی ہے ؟ یا تو تم یہ مانوکہ اس دنیا کا کوئی خدا نہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُ س کے رسول نہیں۔اور یہ کتاب خدا تعالیٰ کی کتاب نہیں۔اور اگر تم یہ باتیں ماننے کے لئے تیار نہیں۔تم واقعہ میں اسے خدا تعالیٰ کی کتاب سمجھتے ہو اور تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کا سچا رسول سمجھتے ہو تو یہ کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ رُوس کا لینن اور سٹالن تو زیادہ اچھا قانون بنائے گااور خدانہیں بنا ئے گا۔امریکہ کی سٹیٹ تو زیادہ