تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 350
کے نتیجہ میں سارا عرب مسلمان ہو گیا۔سارا شام مسلمان ہوگیا۔سارا فلسطین مسلمان ہو گیا۔سارا مصر مسلمان ہو گیا۔ساراا یران مسلمان ہو گیا۔آخر فلسطین اور شام اور مصرا ور ایرا ن اور عراق کے لوگوں کو اس زمانہ کے لوگوں سے کوئی علیحدہ دماغ تو نہیں ملا ہوا تھا جو بدیاں آج یورپ اور امریکہ میں پائی جاتی ہیں وہی اُن لوگوں میں پائی جاتی تھیں۔پھر اُن لوگوں کو کیوں ہدایت ملی ؟ اسی لئے کہ اُس زمانہ میں مسلمان نمازیں پڑھتے تھے تو وہ یقین رکھتے تھے کہ خدا تعالیٰ ہماری دعائوں کو سننے والا ہےاور حقیقت یہ ہے کہ دل میں درد بھی اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کو خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین کامل ہو۔فرض کرو ایک شخص پر ڈاکو حملہ کرتا ہے اور وہ اُس سے ڈر کر بھاگتا ہے اور اپنی حفاظت اور بچائو کے لئے ایک مکان کے پاس پہنچ کر دستک دیتا اور زور زور سے مالک مکان کو آوازیں دیتا ہے توجس درد سے وہ اُس وقت یہ کہہ رہا ہوگا کہ خدا کے واسطے دروازہ کھولو وہ بالکل اور قسم کا ہوگا۔لیکن اگر وہی شخص بھاگتے ہوئے ایک چٹان کی طرف چلا جاتا ہے اور یونہی اُ س ڈاکو کو ڈرانے کے لئے آوازیں دینا شروع کر دیتا ہے کہ دروازہ کھولو تو چونکہ وہ جانتا ہوگا کہ اس جگہ کوئی آدمی نہیں اس لئے باوجود اس کے کہ وہ کوشش کرےگا کہ زور زور سے آوازیں دے اور ڈاکو پر یہ اثر ڈالے کہ میں کسی آدمی کو اپنی مدد کے لئے بلا رہا ہوں پھر بھی اس کی آواز میں درد نہیں ہوگا کیونکہ وہ جانتا ہوگا کہ یہاں آدمی کوئی نہیں۔میں محض ڈرانے کے لئے یہ شور مچا رہا ہوں۔اسی طرح اگر کوئی شخص اس اخلاص سے نمازیں پڑھتا ہے کہ واقعہ میں خدا میری دُعائوں کو سن رہا ہے تو اُس کے اندر جو درد اور جوش پیدا ہو گا وہ اُس شخص کے اندر کہاں پیدا ہو سکتا ہے جو محض بناوٹ اور ریاء کے لئے نمازیں پڑھتا ہے اور دل میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اُس کی قدرتوں پر کوئی یقین نہیں رکھتا۔اسی طرح روزہ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے روزے تم پر اس لئے فرض کئے ہیں کہ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ تا کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔روزہ کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ پانی ہمارے گھر میں موجو د ہوتا ہے۔روٹی ہمارے گھر میں موجود ہوتی ہے مگر ہم محض خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے گھر کے پانی اور اپنے گھر کی روٹی کو چھوڑ دیتے ہیں۔اب جو شخص سچے دل سے روزہ رکھے گا اور خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی روٹی اور اپنے پانی کو بھی چھوڑ دےگا وہ دوسرے کی روٹی کیوں کھائے گا۔جس شخص کے اندر اتنا اخلاص پیدا ہو جائے کہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنا مال بھی استعمال نہ کرے وہ کب یہ کوشش کر سکتا ہے کہ دوسروں کے اموال کو لوٹ لے۔دوسروں کے مال کو لوٹنے کی وہی شخص کوشش کرتا ہے جو روزہ نہیں رکھتا یا روزہ تو رکھتا ہے مگر صرف رسمی طور پر رکھتا ہے۔روزہ کی حقیقت اور اُس کی غرض کو مدنظر نہیں رکھتا اور ایسا روزہ درحقیقت کوئی روزہ نہیں۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں