تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 349
اللہ تعالیٰ نے یہ دعا ہمیں سکھائی کیوں ؟ اس کا سکھا نا بتا تا ہے کہ یہ دعا قبول ہونے والی ہے اور جب یہ دعا قبول ہونے والی ہے تو ضروری ہے کہ اس دعا کے نتیجہ میں کسی دن دوسرے کو ہدایت میسر آجائے۔کبھی کسی واعظ کا وعظ سن کر ہدایت حاصل ہو جاتی ہےاور کبھی گھر میں کوئی مصیبت آتی ہے تو انسان اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جا تا ہے۔بہرحال کسی نہ کسی ذریعہ سے جب بھی دوسرے شخص کو ہدایت میّسر آئےگی تو چونکہ یہ ہدایت اس دعا کے نتیجہ میں ہوگی اس لئے نماز صرف نماز پڑھنے والے کو ہی بدیوں سے روکنے والی نہیں ہوگی بلکہ دوسروں کو بھی بدی اور بے حیائی کے کاموں سے روکنے والی بن جائےگی۔پھر اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ میں صلوٰۃ کے معنے جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے ہیں وہاں اس کے ایک معنے دعا کے بھی ہیں اور اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ نماز جو ہم نے تمہیں سکھائی ہے اپنے دونوں معنوں کے لحاظ سے فحشاء اور منکر سے بچاتی ہے۔اگر عبادت مراد لو تو جب کوئی شخص اخلاص اور محبت سے خدا تعالیٰ کی درگاہ میں بار بار جائےگا تو لازمی طور پر وہ کوشش کرےگا کہ میں بُرائی اور بے حیائی کے کاموں سے الگ رہوں اور اس طرح نماز اُسے گناہوں سے محفوظ کرنے والی بن جائےگی اوراگر دعا مراد لو تب بھی نماز انسان کو فحشاء اور منکر سے بچانے والی ہے کیونکہ نماز میں بار بار یہ دعائیں آتی ہیں کہ الٰہی مجھ پر بھی رحم فرما۔میرے ہمسایہ پر بھی رحم فرما۔میرے اہلِ ملک پر بھی رحم فرما۔میرے دوستوں اور عزیزوں پر بھی رحم فرما۔اگر ساری عمر میں ایک دفعہ بھی یہ دعا قبول ہو جائے تو کم از کم اس کے ذریعہ ایک آدمی تو ضرور ہدایت پا جائےگا اور اس طرح یہ نماز جہاں خود اُس کی ذات کے لئے ہدایت کا موجب ہو گی وہاں دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہدایت کا موجب بن جائےگی اور انہیں فحشاء اور منکر سے بچانے والی ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ اگر آج ساٹھ کروڑ مسلمان سچے دل سے نماز یں پڑھنے لگ جائیں اور ایک شخص کی دعا سے ایک شخص کو ہی ہدایت میسر آجائے۔تب بھی ساٹھ کروڑ مسلمان اس دعا کی بر کت سے ایک ارب بیس کروڑ بن جاتے ہیں اور اسلام کے غلبہ اور اُس کی شوکت میں کوئی کسر باقی نہیں رہتی۔اس موقعہ پر بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم تو نمازوں میں دعائیں مانگتے ہیں مگر ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دعا کا قصور نہیں۔دعا مانگنے والے کا قصور ہے۔وہ مانگ یہ رہے ہوتے ہیں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔مگران کے دلوں میں دعائوں کی قبولیت کا کوئی یقین نہیں ہوتااور جب انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین ہی نہ ہو تو وہ انہیں دے کیوں ؟ جب آپ ہی وہ اللہ تعالیٰ پر بدظنی رکھتے ہوں اور جب آپ ہی وہ اُس کی طاقتوں کے منکر ہوں تو اللہ تعالیٰ اُن کی دعا کو قبول کیوں کرے؟ اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ نے بھی یہی کہا تھا کہ الٰہی ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔مگر اس