تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 351
کہ روزہ یہ نہیں کہ تم بھوکے اور پیاسے رہو اور عملی طور پر دنگا اور فساد کرتے رہو یا گالی گلوچ سے کام لیتے رہو۔اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم روزہ نہیں رکھتے بلکہ محض بھوکے اورپیا سے رہتے ہو۔اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہے کہ لوگ قربانیاں کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ محض ان قربانیوں کی وجہ سے ہمارا خدا ہم سے راضی ہو جائےگا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ(الحج :۳۸) قربانی کا گوشت ہمارے پاس نہیں آتا بلکہ قربانیوں کے ساتھ جس قدر تقویٰ تمہارے دل میں ہوتا ہے وہ ہمارے پاس آتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے کہفَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ (الحج :۳۷)یعنی جب قربانی کے جانوروں کے پہلو زمین پر لگ جائیں تو ان کا گوشت تم خود بھی کھائو اور اُن کو بھی کھلائو جو اپنی غربت سے پریشان ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کا فلسفہ بیان کر دیا ہے اور بتا یا ہے کہ ہم نے تمہیں اس کا کیوں حکم دیا ہے۔کئی لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ قربانی میں کیا رکھا ہے۔سارا سال جب لوگ گوشت کھاتے رہتے ہیں تو ایک خاص دن جانوروں کو قربان کرنےکا حکم دینے کے معنے ہی کیا ہوئے؟ایسے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ قربانی کا حکم اللہ تعالیٰ نے غرباء کو مدنظر رکھتے ہو ئے دیا ہے۔جنہیں اور دنوں میں بہت کم گوشت کھانے کو میسر آتا ہے۔امراء تو سال بھر گوشت کھاتے رہتے ہیں لیکن غرباء نے بعض دفعہ مہینوں گوشت کی شکل تک نہیں دیکھی ہوتی۔ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے حج کے موقعہ پر عقیقہ کے موقع پر اور شادی بیاہ کے موقعہ پر قربانی کر نےکا حکم دے دیا۔احادیث میں ذکر آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک صحابیؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے شادی کر لی ہے آپ نے فرمایا تم نے کسی کنواری لڑکی سے شادی کی ہے یا بیوہ سے اُس نے کہا یا رسول اللہ ! میرے بھائی یتیم رہ گئے تھے میں نے اُن کی پرورش کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بیوہ سے شادی کی ہے تاکہ اُن کی بھی پرورش ہو جائے اور بیوہ سے شادی کرنےکا ثواب بھی مجھے مل جائے۔آپؐ نے فرمایا تم نے بڑے ثواب کی بات کی ہے لیکن دیکھو اَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ (بخاری کتاب النکاح باب الولیمۃ ولو بشاۃ)اب ولیمہ کرو خواہ تمہیں ایک بکری ہی مل جائے۔یعنی اگر زیادہ جانور خریدنے کی تم میں استطاعت نہیں تو کم از کم ایک بکری ہی ذبح کر کے ولیمہ کر دو۔اسی طرح اسلام نے عقیقہ کے موقعہ پر جانوروں کی قربانی کا حکم دیا ہے بعض گناہ ایسے ہیں جن کا کفارہ اسلام نے یہی قرار دیا ہے کہ جانوروں کو قربان کیا جائے صدقۃ الفطر میں بھی یہی حکمت ہے کہ عید کے موقعہ پر غرباء اس روپیہ سے اپنے لئے گوشت وغیرہ خرید سکتے ہیں۔اگر اسلام میں قربانیوں کے یہ احکام نہ ہوتے تو امراء آپ ہی گوشت کھاتے رہتے اور