تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 345
پھر وہ لکھتے ہیں کہ حق کا لفظ اکمال شریعت کے معنوں میں بھی استعمال ہو تا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ ( الصّف :۱۰)یعنی وہ خدا ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے خواہ مشرک لوگ دین کے اس غلبہ کو کتنا ہی نا پسند کریں۔اس جگہ اسلام کو دین الحق انہی معنوں میں قرار دیا گیا ہے کہ یہ دین باقی تما م ادیان پر اپنی کامل شریعت کے لحاظ سے غلبہ اور تفوق رکھتا ہے۔ان معانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے وَ لَدَيْنَا كِتٰبٌ يَّنْطِقُ بِالْحَقِّ ِّ کے ایک معنے یہ ہوںگے کہ ہمارے پاس وہ کتاب ہے جس کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں اور دوسرے معنے یہ ہوںگے کہ ہمارے پاس وہ کتاب ہے جو تما م شریعتوں پر اپنے کامل ہونے کے لحاظ سے افضلیت رکھتی ہے اور یہ دونوں خوبیاں ایسی ہیں جو دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں پائی جاتیں۔جہاں تک حکمت اور فلسفہ کا سوال ہے اس آیت سے یہ نتیجہ مستنبط ہوتا ہے کہ اسلام کے سارے قانون کوئی نہ کوئی خوبی اپنے اندر رکھتے ہیں۔وہ صرف حکم کے طورپر نہیں دئیے گئے بلکہ انسانی مقاصد اور ضروریات کو مدّنظر رکھتے ہوئے دئیے گئے ہیں۔دنیا میں بعض دفعہ ایک آقا اپنے نوکر کو حکم دے دیتا ہے کہ یوں کرو۔مگر اس میں کوئی حکمت نہیں ہوتی یا سزا کے طورپر وہ بعض احکام دے دیتا ہے مگر ان کے پس پردہ بھی کوئی حکمت کام نہیں کر رہی ہوتی۔مثلاً بعض لوگ جب کسی کو سزا دینا چاہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جائو۔اب دیوار کی طرف منہ کر انے میں کوئی حکمت نہیں ہوتی محض دوسرے کی تذلیل مدّنظر ہوتی ہے لیکن اسلام کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میںجس قدراحکام دئیے گئے ہیں اُن میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہے کوئی نہ کوئی غرض ہے جس کو مدّنظر رکھتے ہوئے وہ احکام دئیے گئے ہیں۔کوئی حکم نہیں دیا گیا مگر اسی صورت میں کہ اُس کا فائدہ بنی نوع انسان کو پہنچ سکتا تھا اور کسی بات سے نہیں روکا گیا مگر اُسی صورت میں کہ اُس کا نقصا ن بنی نوع انسان کو پہنچ سکتا تھا اور یہ اسلامی شریعت کی باقی تما م شریعتوں پر ایک امتیازی فوقیت ہے باقی شریعتوںکے احکام کسی حکمت اور فلسفہ کے ماتحت نہیں۔مگراسلام نے کوئی حکم بھی ایسا نہیں دیا جس میں کوئی حکمت اور غرض مدّنظر نہ ہو۔مثلاً نماز کو ہی لے لو۔اللہ تعالیٰ نے اگر ایک طرف ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے تو اُس کے ساتھ ہی اُس نے نماز کا فائدہ بھی بیان کر دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ (العنکبوت :۴۶)نماز انسان کو بے حیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔یعنی نماز میں ایسی تعلیمیں دی گئی ہیں اور ایسے اعلیٰ اور بلند مقاصد انسان کے سامنے رکھے گئے ہیں کہ اگر انسان صحیح طورپر نماز پڑھے تو یقیناً وہ فحشاء اور منکر سے بچ جائے گا۔فَاحِشَۃٌ کے معنے ہوتے ہیں مَایَشْتَدُّ قُبْحُہٗ