تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 346

مِنَ الذُّنُوْبِ (اقرب)ہر وہ غلطی جو بہت ہی معیوب ہو اور جس کا عیب اتنا ظاہر ہو کہ لوگ اس کی طرف انگلیاں اٹھانے لگ جائیں اور کہنے لگیں کہ دیکھو یہ کتنی بری حرکت ہے اور مُنْکَرٌ کے معنے ہوتے ہیں مَالَیْسَ فَیْہِ رِضَی اللہِ مِنْ قَوْلٍ اَوْفِعْلِ ( اقرب) ہر ایسا قول یا فعل جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو۔یہ نماز کا فائدہ ہے جو قرآن کریم نے بیان کیا۔اب اگر ہم اور احکام کو جانے دیں اور صرف اسی حکم پر غور کریں۔تو اس حکم میں ہی ہمیں اسلام کی فضیلت نہایت نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔اور ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ واقعہ میں اگر کوئی شخص سچے دل سے نمازیں پڑھے تو وہ فحشاء اور منکر سے بچ جائےگا۔ہر مسلمان دن رات میں پانچ نمازیں پڑھتا ہے اور ہر نماز میں کچھ فرض ہوتے ہیں اور کچھ سنتیں ہوتی ہیں اور کچھ نوافل ہوتے ہیں۔اور پھر تہجد اور اشراق وغیرہ کی بھی نمازیں ہیں۔ان سب نمازوں میں وہ سورۂ فاتحہ پڑھتا ہے اور نماز کی ہر رکعت میں اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کرتا ہے کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ۔یعنی اے خدا ! میر ی زندگی میں بعض کام بُرے ہوںگے اور بعض اچھے ہوںگے بعض ایسے ہوںگے جو پسندیدہ ہوں گے اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے مطابق ہوںگے اور بعض ایسے ہوںگے جو نا پسندیدہ ہوںگے اور اخلاقی معیار سے گِرے ہوئے ہوںگے۔الٰہی میری دُعا تجھ سے یہ ہے کہ تو ہمیشہ میرا قدم ایسے راستہ پر رکھیئو جو صراط مستقیم ہو جس پر چلنے کے نتیجہ میں کسی قسم کا ظلم نہ ہو۔کسی قسم کی تعدی نہ ہو۔کسی قسم کی بے حیائی نہ ہو اور جس پر چل کر میں ہر قسم کے نقصانات سے محفوظ رہوں۔اب جو شخص دن رات اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کرتا رہےگا اور دُعا بھی سچے دل سے کرے گا وہ برائیوں اور گناہوں میں ملوث ہی کس طرح ہو سکتا ہے۔اگر اس کے سامنے شہوات کاسوال آئےگا تو فوراً اُس کے دل میں خیال پیدا ہو گا کہ میں سیدھے راستہ پر چلوں یعنی شہوات کو پورا کرنے کے جو حلال طریق اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں اُن کو اختیار کروں۔ناجائز اور حرام راستہ اختیار نہ کروں۔کھانے پینے کا سوال آئےگا تو فوراً اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم آجائےگا کہ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ( الاعراف :۳۲)کھائو اور پیو مگر اسراف سے کام نہ لو۔معاملات کی طرف آئےگا تو فوراً اس کے سامنے یہ بات آجائےگی کہ میں نے دھوکا باز ی نہیں کرنی۔دغا اور فریب سے کام نہیں لینا کیونکہ ایسا کرنا ظلم ہے۔غرض جو شخص یہ سمجھ کر دُعا کر ےگا کہ میں نماز پڑھ رہاہوں تمسخر نہیں کررہا۔ہنسی نہیں کر رہا۔دین سے تلعب نہیں کر رہا وہ کھانے پینے کے معاملات میں دوستوں کے تعلقات میں۔بیوی بچوں سے سلوک کرنے میں۔شہریت کے حقوق اور فرائض ادا کرنے میں۔غیر ممالک اور اقوام سے تعلقات رکھنے میں ہمیشہ یہ غور کرتا رہےگا کہ میں وہ راستہ اختیار کروں جو سیدھا ہے اور جس میں کسی قسم کی کجی نہیں پائی جاتی۔آخر جو شخص خدا سے کچھ مانگے گا وہ خود اُس کے مطابق عمل کرنے کے لئے کیوں تیار نہیں ہو گا؟ کیا