تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 337
اپنے اندر رکھتا ہےاور طبی لحاظ سے اس کا استعمال صحت کو تباہ کرنے والا ہے۔یہی حال سؤر کے گوشت کا ہے اس کے استعمال سے بھی کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔اور پھر سؤر میں بعض اخلاقی عیوب بھی پائے جاتے ہیں جو اس کا گوشت استعمال کرنے والوں میں منتقل ہو جاتے ہیں اور جو چیز غیر اللہ کے نام پر ذبح کی جائے اس کا استعمال انسان کو بے غیرت بنا دیتا ہے اور اس کے دل سے اللہ تعالیٰ کا ادب دور کر دیتا ہے۔اسی طرح پینے کی چیزوں میں سے اسلام نے شراب کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ وہ انسانی عقل پر پردہ ڈالتی اور اس کی ذہانت اور علم کو نقصان پہنچاتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے جس قدر چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اس کی وجہ ان کے جسمانی یا اخلاقی یا روحانی مضرات ہیں اور صرف ایسی ہی اشیاء کا کھانا جائز قرار دیا ہے جو انسان کے جسمانی اخلاقی اور روحانی ترقی کا موجب ہوں اور پھر حلال اشیا ء میں سے بھی طیبات کے استعمال پر زیادہ زور دیا ہے یعنی ایسی اشیاء پر جو انسان کی صحت اور اُس کی طبیعت کے مطابق ہوں اور جن کے استعمال سے اُسے کوئی ضرر لاحق ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام نے اخلاق پر خوراک کے اثر کو تسلیم کیا ہے اور اس کو خاص قیود اور شرائط سے وابستہ کرکے اخلاق کے حصول کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔اسلام دنیا کے سامنے یہ اصل پیش کرتا ہے کہ انسانی رُوح جسمانی تغیرات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔پس وہ غذا پر بھی ایک حد تک پابندی عائد کرتا ہے تاکہ معدہ کے ذریعہ انسانی دل اور دماغ پر بد اثرات نہ پہنچیں اور اس کی روح مردہ ہو کر نہ رہ جائے۔وہ کہتا ہے کہ اگر تم حلال کھائو گے بلکہ حلال میں سے بھی طیبات کا استعمال کرو گے تو اس کے نتیجہ میں لازمی طور پر تمہیں عمل صالح کی توفیق ملے گی۔جس طرح آج کل کمیونسٹوں سے جہاں بھی کسی کو بات کرنے کا موقعہ ملے وہ کہتے ہیں کہ اور مسائل کو جانے دیجئیے سارا جھگڑا ہی پیٹ کا ہے۔اسی طرح قرآن کریم بھی کہتا ہے کہ تمہارا پیٹ ہی اصل چیز ہے مگر انہوں نے تو یہ کہا ہے کہ جس نے پیٹ کا مسئلہ حل کر لیا وہ کامیاب ہو گیا اور قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ جس نے اپنے پیٹ کو ہر قسم کی گندی چیزوں سے بچالیا وہ کامیاب ہو گیا جس نے حلال اور حرام میں ہمیشہ امتیاز کیا اور جس نے طیبات کا استعمال ہمیشہ اپنا معمول رکھا وہی ہے جسے عمل صالح کی توفیق ملتی ہے یعنی نماز کی بھی اُسے ہی توفیق ملتی ہے جو حلال کھاتا ہے اور روزہ بھی اُسی کو نصیب ہوتا ہے جو حلال کھاتا ہے اور حج بھی اسی کو نصیب ہوتا ہے جو حلال کھاتا ہےاور زکوٰۃ کی بھی اسی کو توفیق ملتی ہے جو حلال کھاتا ہے ، غرض کمیونزم تو یہ کہتی ہے جس نے پیٹ بھرا وہی ہمار ا لیڈر اور نجات دہندہ ہے اور قرآن کریم کہتا ہے کہ جس نے اپنے پیٹ میں حلال ڈالا وہی ہمارا بندہ ہے اوراس کے نتیجہ میں اس کے لئے نیکیوں کے راستے کھلتے ہیں۔جب تک و ہ اس امر کی پرواہ نہیں کرتا کہ اُس کا رزق حلال ذرائع سے کمایا ہو ا ہے یا حرام ذرائع سے اس وقت تک نہ