تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 336

غَمْرَۃٌ۔غَمْرَۃٌ کے متعلق امام راغب اپنی کتاب مفردات میں لکھتے ہیں کہ جُعِلَ مَثَلًا لِلْجَھَالَۃِ الَّتِیْ تَغْمُرُ صَاحِبَھَا یعنی غمرۃ کا لفظ اس غفلت اور جہالت کے لئے استعمال ہوتا ہے جو انسان پر چھا جاتی ہے۔( مفردات) تفسیر۔اس آیت سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ اس میں صرف نبیوں کو مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم کا یہ قاعدہ ہے کہ اس میں بعض جگہ مخاطب تو نبیوں کو کیا جاتا ہے لیکن مراد اُن کے سب متبع ہوتے ہیں۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا ( بنی اسرائیل :۲۴) کہ اگر تیرے والدین میں سے کسی ایک پر یا ان دونوں پر تیری زندگی میں ہی بڑھاپا آجائے توتُو اُن کی کسی بات پر ناپسند یدگی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اُف تک بھی نہ کہہ اور نہ انہیں سختی سے جھڑک بلکہ ہمیشہ اُن سے نرمی سے بات کیا کر۔اب اس جگہ خطاب بظاہر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن مراد آپ کی اُمت کے افراد ہیں۔کیونکہ آپ ؐ کے والد تو آپ کی پیدائش سے بھی پہلے اور آپ کی والدہ آپ کے بلوغ سے پہلے وفات پاچکی تھیں۔اسی قاعدہ کے مطابق گو یہاں رسولوں کو مخاطب کیا گیا ہے لیکن مراد اُن رسولوں کے متبع ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے کہ تم حلال اور طیب اشیاء کھائو۔کیونکہ اس کے نتیجہ میں تم کو نیک اعمال بجا لانے کی توفیق ملے گی۔حقیقت یہ ہے کہ انسان کی خوراک کا اس کے اخلاق پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے اور جس قسم کے اثرات کسی غذا میں پائے جائیں ویسے ہی جسمانی یا اخلاقی تغیرات پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔چونکہ دنیا میں انسان کو اپنے تمام طبعی جذبات ابھارنے اور اُن کو ترقی دینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اُن کا برمحل استعمال کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکے اس لئے قرآن کریم نے اُن غذائوں کے استعمال سے منع فرما دیا ہے جن کا کوئی جسمانی اخلاقی یا رُوحانی ضرر ظاہر ہو۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے مردار۔خون اور سُؤر کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔اسی طرح ہر ایسی چیز کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔اب ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اپنے اندر بہت بڑے نقصانات نہ رکھتی ہو۔مردار کو ہی لے لو۔اگر کوئی جانور مر جائے۔تو اس کے متعلق یہی کہا جا سکتا ہے کہ یا تو وہ بالکل بوڑھا ہو کر مرا ہے یا کسی زہریلے جانور کے کاٹنے کی وجہ سے مرا ہے یا کسی بیماری اور زہر کے نتیجہ میں مرا ہے اور یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جو اس کے گوشت کو زہریلا اور ناقابل استعمال بنا دیتی ہیں اور اگر وہ کسی سخت صدمہ سے مرا ہو مثلاً کنویں میں گر کر یا جانوروں کی باہمی لڑائی میںتب بھی اس کے خون میں زہر پیدا ہو جاتا ہے جو اس کے گوشت کو ناقابل استعمال بنا دیتا ہے اور خون تو اپنی ذات میں ہی ایسی چیز ہے جو کئی قسم کی زہریں