تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 30

مدد مانگنا اپنا شعار بنانا چاہیے۔پھر فرماتا ہے وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ کسی مخلوق میں یہ طاقت نہیںکہ وہ خدا تعالیٰ کا کفو یعنی اس کی شریک ہوسکے۔خدا تعالیٰ کی شان اتنی بلند ہے اور اس کا مقام اتناارفع ہے کہ انسان خواہ کتنااونچا چلاجائے وہ اس کا عبد ہی رہے گا۔اور ہمیشہ اس کی مدد کا محتاج ہوگا۔یہ وہ توحید ہے جسے اسلام نے پیش کیا ہے اور جس کے بغیراسلامی نقطہ نگاہ سے کسی انسان کو تقدس حاصل نہیں ہو سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ ایک اورمقام پر توحیدپرزور دیتے ہوئے فرماتا ہے اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ(البقرۃ:۱۵۶) ان آیات میں یہ مضمون بیان کیاگیاہے کہ ا للہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اپنی ذات میں ہمیشہ زندہ رہنے والا اور دوسروں کو بھی زندہ رکھنے والا ہے۔لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌاسے نہ کبھی اونگھ آتی ہے نہ نیند۔گویا اس کے کاموں میںکبھی کوئی وقفہ نہیںپڑا۔لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ زمین و آسمان میںجوکچھ ہے اسی کے قبضہ و تصرف میںہے مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ کون ہے جوبغیراس کے اذن کے اس کے حضور کسی کی شفاعت کر سکے بے شک خدا تعالیٰ نے دعائیںقبول کرنے کا سلسلہ جاری رکھاہوا ہے مگر کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ وہ اپنے زور سے خدا تعالیٰ سے کوئی بات منواسکتاہے۔خداخود کسی کی شفاعت کے متعلق اجازت دے تو انسان کچھ مانگ سکتا ورنہ نہیں يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وہ جانتاہے جو ہو چکا اورجو آئندہ ہوگا۔گویا توحیدکے لئے علم کامل ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ علم کامل کے بغیر تصرف کامل نہیں ہوسکتا۔پس خدا تعالیٰ کے متعلق علم کامل کا ماننا ضروری ہے۔وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَاور دنیا میں کوئی انسان خدا تعالیٰ کے دئے ہوئے علم کے بغیر کچھ حاصل نہیں کرسکتا۔پس انسان کو ہمیشہ یہ سمجھنا چاہیے کہ جو کچھ اسے حاصل ہونا ہے خدا تعالیٰ سے ہی حاصل ہونا ہے پھر فرماتا ہےوَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اس کی کرسی ساری زمین اورآسمانوں پر چھائی ہوئی ہے یعنی ہر ذرہ جو حرکت کرتاہے خدا تعالیٰ کے تصرف کے ماتحت کرتاہے۔وَ لَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا اور زمین وآسمان کی حفاظت میں کبھی ناغہ نہیںہوتا۔یہ ہمیشہ جاری رہے گی۔وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ مگر باوجود اس کے کہ دنیا کے ذرہ ذرہ سے اس کی قدرت ظاہر ہو رہی ہے وہ اتنابلند ہے کہ کوئی شخص اس کی کنُہہ تک نہیںپہنچ