تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 31
سکتامگر اس کے ساتھ ہی وہ العظیم بھی ہے یعنی اپنی قدرتوںکے ظہور سے اتنا روشن ہے کہ ہر شخص جو کوشش کرے اسے پاسکتاہے اور اس کا وصال حاصل کرسکتاہے۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو بتایا کہ توحیدکامل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے کامل اتحاد اور وصال حاصل ہو جائے جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کو پالے توا س وقت یہ کہاجاسکتاہے کہ اس نے اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل کرلیا۔یہ وہ توحید ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کی۔اور بتایا کہ تمہاری کامیابی اسی میںہے کہ تمہارا اسی دنیامیں خدا سے وصال ہو جائے اور سوائے خداکے تمہاری نگاہ اور کسی وجود پر نہ پڑے۔دنیا نے آپ کے اس پیغام کا انکار کیااور بڑی سختی سے آپ کا مقابلہ کیا آپ کو بڑی بڑی اذیتیں پہنچائی گئیں۔اور بڑی بڑی رکاوٹیں آپ کے مقصد میں حائل کی گئیں۔مگر آپ نے خدائے واحد کے نام کی بلند ی کے لئے ہر مصیبت کا خوشی سے خیر مقدم کیااور ہر دکھ کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور کسی نازک سے نازک موقعہ پر بھی مداہنت یا نفاق کو برداشت نہیںکیا احد کی جنگ میںجب بعض مسلمانوں کی غلطی کی وجہ سے مسلمانوں کی فتح شکست میںبدل گئی اور کفار نے پیچھے سے حملہ کرکے مسلمانوں کو تتر بتر کردیا بلکہ خود رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے دبائو کی وجہ سے ایک گڑھے میںگرگئے اورلوگوں میںمشہور ہوگیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے تو اس وقت مسلمانوں کی یہ کیفیت تھی کہ زمین و آسمان ان کے لئے تنگ ہوگئے مگر جلدی ہی انہیں معلوم ہوگیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیںچنانچہ صحابہ ؓ نے آپ کو لاشوں کے نیچے سے نکالا اور جوں جوں مسلمانوں کو علم ہوتا گیا وہ آپ کے گرد جمع ہوتے گئے مگر پھر بھی ان کی تعداد تھوڑی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ساتھ لے کر پہاڑ کے ایک دامن میں چلے گئے اس وقت ابوسفیان نے بڑے تکبر سے آواز دی کہ مسلمانو ! کہاں ہے تمہارا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے اسے مار دیاہے۔صحابہؓ جواب دینا چاہتے تھے مگر آپ ؐنے روک دیا۔ابو سفیان نے پھر آواز دی اور کہا۔کہاں ہے ابوبکرؓ صحابہ ؓ پھر جواب دیناچاہتے تھے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی روک دیا۔پھر اس نے بڑے جوش سے کہاکہاں ہے عمر ؓ ؟ حضرت عمر ؓ کہنا ہی چاہتے تھے کہ میںتمہارا سرتوڑنے کے لئے یہاں موجود ہوں۔مگر آپ نے فرمایا مت بولو۔دراصل ابو سفیان کی غرض یہ تھی کہ وہ پتہ لگائے کہ کون کون زندہ ہے اور کون کون نہیں۔آج کل بھی جنگ میں ایسی خبریں مشہور کردی جاتی ہیںجن کی اصل غرض صرف اطلاع حاصل کرنا ہوتی ہے۔مثلاً مشہور کردیا جاتاہے کہ فلاں جرنیل پکڑا گیا ہے یافلاں جہاز ڈوب گیاہے اور جس حکومت کا وہ جرنیل یا جہاز ہوتاہے خاموش رہتی