تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 29
انہیںمسلمانوں کی پیش کر دہ توحید پسند آگئی اور وہ مسلمان ہوگئے غرض سب مذاہب کی کتابوں میں لکھاہے کہ اس وقت شرک پھیل چکا تھا او ر دنیامیں توحید باقی نہیںرہی تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانہ میں پید اہو کر اور پھر ایسے مقام میں پید اہو کر جو توحید سے بالکل ناواقف تھا اورپھر ایسی قوم میں پید اہو کر جس کاکوئی مذہب نہیںتھا۔اور جو نہ وید کو الہامی مانتی تھی نہ تورات کو نہ انجیل کو الہامی مانتی تھی نہ ژندواوستا کو۔توحید کو ایسے کامل اور ایسے اعلیٰ رنگ میں پیش کیاکہ آج آپ کے مخالف بھی اس کی عظمت کو تسلیم کرتے ہیں آپ نے دنیاکو صرف یہ نہیںکہا کہ توحید کو مان لو بلکہ یہ بھی بتایا کہ کس طرح مانو اسی طرح آپ نے صرف یہ نہیں کہا کہ شرک نہ کرو بلکہ یہ بھی کہا کہ شرک سے کس طرح بچو۔پھر آپ نے صرف یہ نہیںکہا کہ توحید کو مان لو بلکہ توحید کے دلائل دے کر کہا کہ اسے مانو اسی طرح آپ نے صرف یہی نہیںکہا کہ شرک نہ کرو بلکہ دلائل اور براہین سے شرک کی برائی سمجھا کراس سے نفرت پیدا کی۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ شر ک کی تردید کرتے ہوئے نہایت لطیف پیرایہ میں فرماتا ہے۔قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ۔اَللّٰهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدْ١ۙ۬ وَ لَمْ يُوْلَدْ۔وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ (الاخلاص :۲ تا ۴)۔اس چھوٹی سی سورۃ میںجو سوئہ اخلاص کے نام سے موسوم ہے اللہ تعالیٰ نے چار اقسام کے شرک پیش کرکے اس کا رد کیا ہے فرماتا ہے۔تم خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق مختلف خیالات میں مبتلاہو او ر قسم قسم کی تھیوریا ں ایجاد کرتے ہو طرح طرح کے فلسفے اور نکتے نکالتے ہو اور خدا تعالیٰ کے متعلق مختلف تصورات قائم کرتے ہو لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق جو یقینی بات ہے اس کا نقطہ مرکزی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر رنگ میںاور ہرطرح ایک ہی ہے نہ وہ کسی کی ابتدائی کڑی ہے اورنہ آخری سرا۔نہ کسی کے مشابہ ہے اورنہ کوئی اس کے مشابہ اس لئے اگر خدا تعالیٰ جیسی کوئی اورذات قرار دو گے تو تم اس کی احدیت پر حملہ کرنے والے سمجھے جائو گے۔پھر شرک کی ایک قسم یہ بھی ہوتی ہے کہ صفات کے لحاظ سے کسی کو خدا کا شریک قرار دیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے اَللّٰهُ الصَّمَدُ کہہ کر اس کی تردید کی اور بتایا کہ صمدیت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات میںہی پائی جاتی ہے۔اس لئے اس کے دروازہ سے بھٹکنا کسی انسان کے لئے فائدہ مند نہیں ہوسکتا تم دنیا میں جس کو بھی اپناحاجت روا سمجھو گے وہ میر ا ہی محتاج ہوگا اس لئے تم چشمہ کو چھوڑ کر گلاس کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہو۔پھر فرمایا لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ۔خدا تعالیٰ کے متعلق یہ بھی یاد رکھو کہ وہ ہمیشہ سے چلاآیا ہے اور ہمیشہ رہےگا۔نہ اس نے کسی کو جنا ہے کہ اس کابیٹا اس کاقائم مقام ہو سکے اورنہ اس کا کوئی باپ ہے کہ جس سے اس نے ورثہ میں طاقتیں حاصل کی ہوں۔گویاخداپہلے بھی صمد تھا۔اب بھی صمد ہے اور آئندہ بھی وہی صمد ہوگا۔اس لئے تمہیں اسی سے