تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 329
’’ نہ تو ان سے پہلے ایسی ٹڈیاںکبھی آئیں نہ اُن کے بعد پھر آئیں گی۔کیونکہ انہوں نے تمام روئے زمین کو ڈھانک لیا۔ایسا کہ ملک میں اندھیرا ہو گیا اور انہوں نے اس ملک کی ایک ایک سبزی کو اور درختوں کے میووں کو جو اولوں سے بچ گئے تھے چٹ کر لیا۔‘‘ (خروج باب ۱۰ آیت ۱۴ و ۱۵ ) لیکن بائیبل کے اس بیان کے مقابلہ میں جغرافیہ سے ثابت ہے کہ ٹڈی جن ملکوں میں خاص طور پر نشو و نما پاتی ہے اُن میں سے ایک مصر بھی ہے۔(The Book of Knowledge vol۔5 p۔33۔34 underword holocaust) پھر ایک دفعہ عذاب کے طور پر مصر میں ایسی تاریکی چھائی کہ لکھا ہے۔’’ تین دن تک سارے ملک مصر میں گہری تاریکی رہی۔تین دن تک نہ تو کسی نے کسی کو دیکھا اور نہ کوئی اپنی جگہ سے ہلا۔‘‘ ( خروج باب ۱۰ آیت ۲۲ و۲۳ ) اسی طرح ایک دفعہ اللہ تعالیٰ نے ملک مصر کے تمام پلوٹھے بچوں کو مارڈالا۔اور لوگوں کی چیخ و پکار سے کہرام مچ گیا۔بائیبل کہتی ہے کہ ’’ آدھی رات کو خداوند نے ملک مصر کے سب پلوٹھوں کو فرعون جو اپنے تخت پر بیٹھا تھا اُس کے پلوٹھے سے لےکر وہ قیدی جو قید خانہ میں تھا اس کے پلوٹھے تک بلکہ چوپائوں کے پلوٹھوں کو بھی ہلاک کر دیا۔اور فرعون اور اُس کے سب نوکر اور سب مصری رات ہی کو اُٹھ بیٹھے اور مصر میں بڑا کہرام مچ گیا کیونکہ ایک بھی ایسا گھر نہ تھا جس میں کوئی نہ مرا ہو۔‘‘ ( خروج باب ۱۲ آیت ۲۹،۳۰) اب اگر بائیبل کی یہ بات درست تھی کہ قوم نوح ؑ کی ہلاکت کے بعد خدا تعالیٰ نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ آئندہ لوگوں کو کبھی اپنے عذاب سے ہلاک نہیں کرےگا کیونکہ ’’ انسان کے دل کا خیال لڑکپن سے بُرا ہے۔‘‘ تو سدوم کیوں تباہ ہوا ؟ اور اُس پر گندھک اور آگ کیوں بر سائی گئی۔فرعونیوں پر جوؤں اور مینڈکوں اور مچھروں اور ٹڈیوں کا عذاب کیوں نازل کیا گیا۔اُن پر اولے اور آگ کیوں بر سائی گئی۔اُن کے لئے دریا کے پانی کو لہو میں کیوں تبدیل کیا گیا۔اُن کے پلوٹھوں کو کیوں مارا گیا۔اُن کے جسموں پر پھوڑے اور پھپھولے کیوں پیدا کر دئیے گئے۔ان کو گہری تاریکی میں تین دن تک کیوں رکھا گیا ؟ کیا خدا تعالیٰ نہیں جانتا تھا کہ انسان کا خیال لڑکپن سے بُرا ہے اسے کچھ نہیں کہنا چاہیے؟ پھر اگر خدا تعالیٰ نے نوح ؑ کے بعد کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرنا تھا تو خدا تعالیٰ نے موسیٰ کی معرفت یہ کیوں کہا کہ