تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 324
کے لحاظ سے ایسا مکمل بنا دیا ہے کہ اب اسے اپنی ہدایت کے لئے کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔اُن کے نزدیک ایک انسان اپنی طاقتوں سے کام لے کر اپنی نجات کی راہ اپنے لئے خود تجویز کر سکتا ہے اور بری اور بھلی بات میں امتیاز کر سکتا ہے۔اُسے یہ ضرورت نہیں کہ وہ اپنے جیسے آدمی کے سامنے سر جھکا دے اور اس کی ہر بات پر اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہنا شروع کر دے۔گو یا اُن کے نزدیک ایک اپنے جیسے آدمی کی بات مان لینا اُن اعلیٰ درجہ کی طاقتوں کی توہین ہے جو قدرت کی طرف سے ہر انسان کو ودیعت کی گئی ہیں۔ان کے علاوہ ایک تیسری قسم کے بھی لوگ ہوتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ نبوت و رسالت کے لئے جن طاقتوں کی ضرورت ہے وہ کسی بشر میں نہیں پائی جاتیں۔اگر کوئی ایسا وجود ہو جو مافوق الانسانیت طاقتیں رکھتا ہو تو بے شک ہم اُس کو ماننے کے لئے تیار ہیں۔لیکن اپنے جیسے ایک وجود کو جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور ہماری طرح حوائجِ بشریہ کا محتاج ہے ہم ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔ایسے لوگ کلامِ الٰہی کے نزول کے منکر نہیں ہوتے مگر وہ کسی ایسے وجود کے منتظر ہوتے ہیں جو مافوق الانسانیت طاقتیں رکھتا ہو۔اس لئے وہ نبیوں کا انکار کر دیتے ہیں۔غرض یہ اعتراض مختلف وجوہ کی بنا پر ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ بشر کو ہی رسول بنا کر بھیجتا رہا کیونکہ ہر انسان ایک نمونہ کا محتاج ہے۔اگر انبیاء مافوق الانسانیت طاقتیں اپنے اندر رکھیں تو وہ بنی نو ع انسان کے لئے نمونہ نہیں ہو سکتے۔وہ بڑی آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ تم تو اس لئے ان احکام کو بجا لا رہے ہو کہ تم اپنے اندر غیر معمولی طاقتیں رکھتے ہو۔اگر ہمارے جیسی طاقتیں تم میں بھی ہو تیں تو پھر ہم دیکھتے کہ تم کس طرح ان احکام پر عمل کرتے ہو پس اس اعتراض کو دُور کرنے اور بنی نوع انسان کے سامنے ایک نمونہ پیش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہمیشہ بشر رسول ہی بھیجا کرتا ہے تاکہ قیامت کے دن وہ کوئی عذر نہ کر سکیں اور اللہ تعالیٰ اُن پر حجّت تما م کرے اور کہے کہ جب یہ لوگ جو تمہارے جیسے انسان تھے انہوں نے میرے احکام پر عمل کیا اور میری ہدایات کی پیروی کی تو تم کیونکر کہہ سکتے ہو کہ ہمارے لئے ان احکام پر عمل کرنا ناممکن تھا۔تمہارا یہ عذر محض بے بنیاد ہے اور تم اس بات کے مستحق ہو کہ تمہیں سزا دی جائے۔پس بنی نوع انسان کے لئے ہمیشہ بشر رسول کا آنا ہی ضروری ہوتا ہے مگر افسوس کہ انسان ہمیشہ عذر لنگ تلاش کرتا ہے اور حیلوں بہانوں سے خدا تعالیٰ کے احکام کو توڑتا رہتا ہے۔اِنْ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَ نَحْيَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ منکرین انبیاء کے انکار کی دوسری وجہ یہ ہو تی ہے کہ وہ لوگ بعث بعد الموت کے منکر ہوتے ہیں اور اس وجہ سے ان کے اندر اپنے اعمال کے اچھا یابُرا ہونے کے متعلق کبھی کوئی صحیح احساس پیدا نہیں ہوتا۔وہ جس ڈگر پر چل رہے ہوتے ہیں اُس پر