تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 323
الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ہم نے ان کو اس دنیا کی زندگی میں ہر قسم کی آسائش عطا کی تھی اسی طرح قومِ عاد کو حضرت ہود ؑ نیکی اور تقویٰ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ زَادَكُمْ فِي الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (الا عراف:۷۰)۔اُس نے تمہاری نسلوںکو زیادہ کیا اور تمہارے جسم کو بہت مضبوط بنایا۔پس اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جائو۔پھر جس طرح یہاں یہ کہا گیا ہے کہ انہو ں نے یہ اعتراض کیا کہ وَ لَىِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ کہ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کی بات مانو گے تو گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جائو گے اسی طرح سورۂ اعراف میں قوم عاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حضرت ہود ؑ نے اُن سے کہا اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِيُنْذِرَكُمْ(الا عراف:۷۰) کہ کیا تم اس بات پر تعجب کرتے ہو کہ تم میں سے ہی ایک شخص پر تمہارے رب کی طرف سے ہدایت نازل ہوئی ہے تاکہ وہ تمہیں آنے والے عذاب سے ہو شیا ر کرے۔غرض قرآن کریم کا یہ بتانا کہ قوم نوح ؑ کی ہلاکت کے بعد عاد کو ہم نے اس کا جانشین بنایا تھا اور پھر انہی اعتراضات کا ذکر جو عاد نے کئے بتاتا ہے کہ اس جگہقَرْنًا اٰخَرِيْنَ میں عاد ہی کا ذکر کیا گیا ہے۔مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ يَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ سے معلو م ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام پر اُن کے مخالفین کی طرف سے جو اعتراضات ہوتے رہے ہیں اُن میں سے ایک بڑا اعتراض اُن کا ہمیشہ یہ رہا ہے کہ بشر رسول کی بات ماننے کے لئے ہم تیار نہیں۔ہماری ہدایت کے لئے بشر سے بالا کوئی اور وجود آنا چاہیے۔اُن کا یہ اعتراض کئی وجوہ کی بنا پر ہوتا ہے بعض لوگ یہ اعتراض اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ضد اور تعصب کا شکار ہو تے ہیں اور اُن کے قلب کے مخفی گوشوں میں کِبر پایا جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ آخر اس کو ہم پر کیا فضیلت حاصل ہے کہ اسے کلام الٰہی کا حامل بنا دیا گیا ہے ہم بھی انسان ہیں اور یہ بھی انسان ہے۔اگر ہماری ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کلام ہی نازل ہونا تھا تو وہ ہم پر ہوتا اس پر کیوں نازل ہوا ہے ؟اور اس کا کیا حق ہے کہ ہمارے جیسا ایک انسان ہوتے ہوئے ہم پر اپنی بڑائی کا اظہار کرے اور ہمیں اپنے پیچھے چلانا چاہے۔ایسے لوگ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ کلامِ الٰہی نازل ہو سکتا ہے مگر وہ انبیاء کو ایک گھٹیا وجود قرار دیتے ہیں اور اپنی دنیوی قابلیتوں یا ما ل و دولت یا ظاہری علم کی وجہ سے اپنے آپ کو اُن سے بالا سمجھتے ہیں اس لئے وہ اُن کا پیغام سُننے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی بات نہیں مان سکتے۔پھر بعض لوگ یہ اعتراض اس بنا پر کیا کرتے ہیں کہ اُن کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دماغی اور عقلی قویٰ