تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 322

غُثَآءٌ۔غُثَاءٌیہ لفظ غُثَاءٌ اورغُثَّاءٌ دونوں طرح بولا جاتا ہے۔اور اس کے معنے ردّی چیز کے ہوتے ہیں چنانچہ ہر قسم کی چیز جو ردّی ہو جائے اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ غُثَاءٌ ہوگئی۔اور غُثَاءٌ کے معنے جھاگ کے بھی ہوتے ہیں اور اس کے معنے ہلاک ہونے والی چیز کے بھی ہوتے ہیں۔اور اُن پتوں کو بھی کہتے ہیں جو گِر کر سڑ جاتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے نوح ؑ پر ہم نے نبوت کا سلسلہ ختم نہیں کر دیا بلکہ نوح ؑ کے بعد اور رسول آئے۔اور نوح ؑ کی قوم کے بعد اور قومیں آئیں اور وہ بھی نوح ؑ کی قوم کی طرح اعتراض کرتی چلی گئیں۔جب خدا کے رسول نے ان کو حکم دیا کہ ایک خدا کے سوا اور کسی کی پرستش نہ کرو تو اس کی قوم کے سرداروں نے جو کہ مابعد الموت زندگی کے منکر تھے اور دنیوی عزت اور مال و دولت کی وجہ سے تکبر میں مبتلاہو چکے تھے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ یہ تو تمہارے جیسا ایک انسان ہے جو کچھ تم کھاتے ہو وہی کچھ یہ کھا تا ہے اورجو کچھ تم پیتے ہو وہی کچھ یہ پیتا ہے۔اگر تم ایسے آدمی کے پیچھے چلے تو یقیناً نقصان اُٹھائو گے۔یہ تو کہتا ہے کہ تم مر کر پھر زندہ کئے جائو گے حالانکہ یہ ایسی بات ہے جسے کوئی عقل تسلیم نہیں کر سکتی۔ہم تو اسی دنیا میں جئیں گے اور مریں گے اور ہماری موت کے بعد کوئی اور زندگی ہم کو نہیں ملے گی۔یہ شخص یقیناً جھوٹا ہے اور ہم اس پر کبھی ایمان نہیں لا سکتے۔تب خدا تعالیٰ کے نبی نے دُعا کی کہ اے میرے رب! انہوں نے تو میرا انکار کر دیا ہے اب تُو ہی میری مدد فرما۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جلد ہی اپنے کئے پر نادم ہوںگے۔چنانچہ ان کو ایک عذاب نے آپکڑا اور وہ تباہ ہو گئے۔ان آیات میںثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَ کے الفاظ میں قومِ عاد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کی ہدایت کے لئے حضرت ہود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔کیونکہ ان قوموں کا ذکر قومِ نوح ؑ کی ہلاکت کے بعد کیا گیاہے اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ہود ؑ نے قومِ عاد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا وَاذْکُرُوْا اِذْجَعَلَکُمْ خُلَفَآ ئَ مِنْ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ (الا عراف :۷۰) یعنی اس وقت کو یاد کرو جبکہ خدا نے تم کو نوح ؑ کی قوم کے بعد اُس کا جانشین بنا دیا تھا۔اور قوم عاد کے متعلق فرماتا ہے کہ وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا (الا عراف:۶۶)یعنی عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو رسول بنا کر بھیجا تھا۔پھر جس طرح ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ اُس رسول نے انہیں توحید کی طرف بلایا اور بتوں کی پرستش سے روکا اسی طرح سورۂ اعراف میں حضرت ہود ؑ کے متعلق بتا یا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے یہی کہا کہ یَا قَوْمِ اعْبُدُوااللّٰہَ مَالَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (ھود:۵۱) یعنی اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو۔اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں۔پھر جس طرح اس قوم کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اَتْرَفْنٰھُمْ فِیْ