تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 321
بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ۰۰۳۵َأيَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ کہ جب تم مر جائو گے اور مٹی ہو جائو گے اور ہڈیاں بن جائو گے تو تم (پھر زندہ کر کے ) نکالے جائو گے۔جس بات اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ۰۰۳۶ کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ عقل سے بہت ہی دو رہے اور ماننے کی بات نہیں۔زندگی تو صرف ہماری اس دنیا کی هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ۰۰۳۷اِنْ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا زندگی ہے۔ہم کبھی مُردہ حالت میں ہوتے ہیں اور کبھی زندہ حالت میں اور ہم کبھی مرنے کے بعد دوبارہ نہیں الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَ نَحْيَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ۪۠ۙ۰۰۳۸اِنْ هُوَ اِلَّا اُٹھائے جائیں گے یہ شخص تو (صرف) ایک اکیلا شخص ہے جو اللہ (تعالیٰ) پر جھوٹا افتراء کرتا ہے اور ہم اس (کی باتوں) رَجُلُ ا۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِيْنَ۰۰۳۹ کو کبھی نہیں مانیں گے۔(اس پر) اُس نے کہا اے میرے رب !ان لوگوں نے مجھے جھٹلادیا ہے پس تو میری مدد کر قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ۰۰۴۰قَالَ عَمَّا قَلِيْلٍ (تب خدا تعالیٰ ) نے فرمایا۔یہ لوگ تھوڑے ہی عرصہ میں شرمندہ ہو جائیں گے اور اُن کو ایک عذاب لَّيُصْبِحُنَّ نٰدِمِيْنَۚ۰۰۴۱فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ بِالْحَقِّ نے پکڑ لیا جس کی پختہ خبر دی گئی تھی اور ہم نے اُن کو کوڑا کرکٹ بنا دیا اور( فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ) فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۴۲ ظالموں کے لئے خدا کی لعنت (مقدر کر دو)۔حلّ لُغَات۔اَلصَّیْحَۃُ۔اَلصَّیْحَۃُ:اَلصَّوْتُ الشَّدِیْدُ۔سخت آواز۔اَلزَّجَرُ۔ڈانٹ۔اَلْعَذَابُ۔عذاب اَلْغَارَۃُ إذَا فُوْجِی ءَ الْحَیُّ بِھَا۔اچانک حملہ۔( اقرب)