تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 320
کریں گے۔مدینہ سے باہر ہم آپ کی حفاظت کے پابند نہیں بلکہ انہوں نے قربانیوں کی آگ میں اپنے آپ کو بلا دریغ جھونک دیا اور خون کے دریا میں تیر کر اپنے رب کے قُرب کو حاصل کر لیا۔یہ وہ زیتونی ورق تھے جو نوح ؑ کی مماثلت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے اور جس کی اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍمیں خبر دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ نوح ؑ کا واقعہ ہم نے ایک افسانہ کے رنگ میں بیان نہیں کیا بلکہ اس میں اسلام اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کی عظیم الشان پیشگوئیاں ہیں اور اسلام کے روشن مستقبل کی جھلک اس آئینہ میں تمہارے سامنے پیش کی گئی ہے۔ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِيْنَۚ۰۰۳۲فَاَرْسَلْنَا پھر ہم نے اُن کے بعد کئی قومیں پیدا کیں اور ہم نے اُن میں اُنہی میں سے رسول بھیجا(یہ پیغام دیتے ہوئے) فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ کہ اللہ کی عبادت کرو۔اُس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں۔کیا تم اُس کے ذریعہ سے اپنے آپ کوہلا کت سے غَيْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَؒ۰۰۳۳وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ بچاتے نہیں ؟اور اس (نئے رسول) کی قوم میں سے جنہوں نے کفر کیا تھا اور بعد الموت (خدا سے ملنے ) کا انکار الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِي کیا تھا۔اور جن کو ہم نے اس دنیا کی زندگی میں مالدار بنایا اُن کے سرداروں نے کہا یہ تو تمہارے جیسا ایک آدمی الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ يَاْكُلُ مِمَّا ہے۔اُنہی (کھانوں ) میں سے کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو۔اور انہی (پانیوں ) میں سے پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔اور تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ يَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ۰۰۳۴وَ لَىِٕنْ اَطَعْتُمْ اگر تم اپنے جیسے ایک آدمی کی بات مانو گے تو تم گھاٹا پانے والوں میں سے ہو جائو گے۔کیا وہ تم سے یہ وعدہ کرتا ہے