تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 319
جوش ان پر گراں گذرے گا اور یہ سمجھیں گے کہ انہیں ہمارے رشتہ داروں کو مارنے میں بڑا مزہ آتا ہے۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرما یا کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا۔یا رسول اللہ مشورہ تو آپ کو مل رہا ہے۔مگر آپ جو بار بار مشورہ طلب فرما رہے ہیں تو شاید آپ کی مراد ہم انصار سے ہے کہ اس بارہ میں ہماری کیا رائے ہے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! جب ہم مکّہ مکرمہ میں گئے تھے اور ہمیں آپ کی بیعت کی سعادت حاصل ہوئی تھی تو اُس وقت ہم نے آپ سے درخواست کی تھی کہ آپ مدینہ تشریف لے آئیں۔آپ نے ہماری درخواست کو قبول فرمایا اور ہم نے یہ معاہدہ کیا کہ اگر مدینہ پر کسی دشمن نے حملہ کیا تو ہم اپنی جانیں اور اپنے اموال قربان کر کے آپ کی حفاظت کریں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر مقابلہ ہوا تو پھر ہم پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔اب چونکہ مدینہ سے باہر مقابلہ ہو رہا ہے۔اس لئے شاید آپ کا اشارہ اُس معاہدہ کی طرف ہے اور آپ ہم سے یہ دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ اب اس معاہدہ کے مطابق ہماری کیا رائے ہے ؟ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم درست سمجھتے ہو۔میرا اشارہ اسی معاہدہ کی طرف تھا انہوں نے کہا یا رسول اللہ اس معاہدہ کا خیال جانے دیجئیے۔جب ہم نے یہ معاہدہ کیا تھا اُس وقت ابھی ہم پر آپ کی پوری شا ن ظاہر نہیں ہوئی تھی مگر اب ہم نے دیکھ لیا ہے کہ آپ کی کیا شان ہے اور آپ کتنی بڑی عظمت اور جاہ وجلال کے نبی ہیں۔اب کسی معاہدہ کا سوال نہیں۔یا رسول اللہ ! چند منزل کے فاصلہ پر سمندر ہے آپ حکم دیں تو ہم اپنے گھوڑے اُس میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں اور یا رسول اللہ ! اگر لڑائی ہوئی تو خدا کی قسم ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے۔آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن اس وقت تک آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہو ا نہ گذرے(السیرة النبویة لابن ہشام غزوة بدر الکبریٰ)۔یہ وہ اخلاص تھا جس کا نمونہ انصار نے دکھایا اور یہ وہ جذبۂ فدائیت تھا جس کا انہوں نے مظاہر ہ کیااور پھر انہوں نے جس طرح بھیڑ اور بکریوں کی طرح اپنے سروں کو اسلام کی راہ میں کٹوایا اس کے نقوش تاریخ کے صفحات پر ہی نہیں دلوں کی گہرائیوں پر اس طرح ثبت ہیں کہ قیامت تک آنے والی نسلیں اُن کی شاندار قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتیں۔اس واقعہ کو دیکھو اور پھر موسیٰ ؑ کے ساتھیوں کے جواب کے ساتھ اس کا مقابلہ کرو۔تو تمہیں معلوم ہوگا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوت ِقدسیہ سے کیسے شاندار پھل پیدا کئے تھے۔موسیٰ ؑ نے جب اپنی قوم سے کہا کہ کنعان کی سرزمین پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہو جائو تو انہوں نے کہا کہ اے موسیٰ ؑ ! تو اور تیرا رب دونوں جائواور دشمنوں سے لڑتے پھرو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (المائدة:۲۵)مگر انصار نے یہ نہیں کہا کہ ہم معاہدہ کے مطابق مدینہ میں بیٹھ کر آپ کی حفاظت