تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 28
طرح وہ شخص جو پہلے نبیوں کو چوراور ڈاکو قراردیتاہے (یوحنا باب ۱۰ آیت ۸) اس سے وہ شخص اعلیٰ ہوگا جو پہلے نبیوں کی فضیلت کو تسلیم کرکے ان پراپنی فضیلت ثابت کرتاہے فَصَلِّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلِّمْ۔مگر فرماتا ہے بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ١ۙ الْحَقَّ فَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ قرآن اور اسلام کی فضیلت کامعاملہ تو بالکل صاف تھا۔لیکن جو لوگ حقیقت جاننے کی کوشش نہیںکرتے وہ اعراض سے کام لے رہے ہیں۔وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اورہم نے تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں ہم ان میںسے ہر ایک کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ۰۰۲۶ یہ ہے کہ میںایک ہی خداہوں۔پس (صرف) میری عبادت کرو۔تفسیر۔یعنی اے محمد ؐرسو ل اللہ ! تجھ سے پہلے رسول بھی سب انسان ہی تھے اگر تو انسان ہے تو اس میں تیری کوئی ہتک نہیںاور سوائے انسان کے وہ پہلے رسول کچھ بھی ہو نہیںسکتے تھے کیونکہ خدا صرف ایک ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ سب انبیا ء کا مشترکہ مشن اشاعت توحید تھا۔خواہ کوئی نبی ہندوستان میں پیدا ہوا ہو جو کسی زمانہ میںشرک وبت پرستی کاگھر تھا یامصر میں پید اہوا ہو جہاں ایک انسان کو خدا سمجھا جاتاتھا یا ایران میں پیدا ہوا ہو جو آتش پرستوں کا مرکز تھا۔یاکسدیوں کے اُور میں پیدا ہوا ہو جو بتوں سے اٹاپڑا تھا یا مکہ مکرمہ میںظاہر ہوا ہو جہاں کے رہنے والوں نے خدا کے گھر کو بھی بتوں سے خالی نہیں رکھا تھا مگر بڑے سے بڑے نبیوں کی زندگیوں کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگیوں سے مقابلہ کر کے دیکھ لو آپ نے جس رنگ میںشرک کی بیخ کنی کی ہے اور توحید کو روئے زمین پر پھیلانے میںجس جانفشانی اور قربانی سے کام کیا ہے اس کی نظیر دنیا کے اور کسی نبی کی زندگی میں نظر نہیں آسکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس زمانہ میں مبعوث ہوئے اس وقت توحید دنیاسے بالکل مٹ چکی تھی چنانچہ ہندوؤںکی کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ اس وقت دنیا میں بڑی خرابی پیدا ہوچکی تھی(ستیارتھ پرکاش سوال نمبر ۶۸) اور عیسائیوں کی کتابوںمیں بھی لکھا ہے کہ اس وقت شرک پھیل چکا تھا (لائف آف محمد از ولیم میور انٹروڈکشن صفحہ ۷)۔بلکہ وہ لکھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت اور ترقی کی وجہ ہی یہی ہوئی کہ عیسائی قوم بگڑ چکی تھی اور عیسائیوں نے اسلام کی توحید کو دیکھ کر اسے قبول کرلیا۔یہی بات زرتشتی کہتے ہیں۔کہ اس زمانہ میںچونکہ زرتشتی لوگ توحید کو چھوڑ چکے تھے