تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 27
الدِّیْنِ وَ وَضْعُ الْمِلَلِ وہ کتاب جس میں دین کی تفصیلات ہوں اور مذہب کے اصول ہوں اور جب الذِّکْرُ مِنَ الْقَوْلِکہیں تو معنے ہوںگے الصُّلْبُ الْمَتِیْنُ۔مضبوط اور ٹھوس بات۔(اقرب) تفسیر۔اللہ تعالیٰ چونکہ واحد مالک ہے کوئی دوسرا شخص اس سے جواب طلبی کا حق دار نہیں لیکن تمام کے تمام کسی نہ کسی کے سامنے جواب دینے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔پس ان کاکمزور اور ناقص ہوناثابت ہے۔ویسے ناقص العقل اور ناقص القویٰ لوگوں کا خدا کے سوا معبود قرار دینا خود ہی ایک ہنسی کی بات ہے ان کی بات تو ماننے کے قابل ہی نہیںان کی بات تبھی صحیح ہو سکتی ہے جب خدااس کاگواہ ہو لیکن یہ خدا کی گواہی کبھی پیش نہیں کر سکتے۔پھر فرماتا ہے کہ اس قرآن کو دیکھو۔یہ محمدؐ رسول اللہ کے زمانہ کے مومن لوگوں کے شرف کا بھی اظہار کرتاہے اور جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے زمانہ کے لوگ تھے ان کے شرف کو بھی ظاہر کرتاہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے اتباع عظیم الشان شرف کے مالک نہ ہوتے تو یہ کبھی پہلے زمانہ کے نبیوں اور ان کے متبعین کے شر ف کااظہار نہ کرتا جیسا کہ قرآن میںآتاہے۔وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ(فاطر:۲۵) کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جس میں خدا تعالیٰ کا کوئی نہ کو ئی نبی نہ آیاہو۔قرآن مسیح ؑ کی طرح نہیں ہے جو کہتاہے کہ جتنے مجھ سے پہلے آئے سب چور اور ڈاکو ہیں (یوحنا باب ۱۰آیت ۸) کیونکہ مسیح اپنے اور اپنے حواریوں میں کوئی ایسی عملی اورظاہر خوبی پیش نہیں کرسکتاتھا جس کی بناپر وہ پہلے لوگوں پر اپنی فضیلت ثابت کر سکے۔پس اپنی اور اپنے ساتھیوں کی عزت ثابت کرنے کے لئے اس کے پاس یہی چارہ کار تھا کہ وہ موسیٰ اور یرمیاہ اور حزقیل اور الیاس کو چور اور بٹ مار کہتا تاکہ لوگ سمجھ لیںکہ پہلے نبی چور اور بٹ مار تھے۔اور عیسیٰ اور اس کے ساتھی چور اور بٹ مار نہیں۔اس لئے ان سے بہتر ہیں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بجائے پہلے نبیوںکو چور اور بٹ مار کہنے کے ان کو اعلیٰ درجہ کے اخلاق کامالک قرار دیا اور ان کے خدا رسیدہ ہونے اور خداکے محبوب ہونے کا اقرار کیا نتیجہ یہ نکلا کہ جب تک آپ ان سے زیادہ اخلاق ظاہر نہ کرتے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کازیادہ محبوب ثابت نہ کرتے آپ اپنے دعویٰ کو ثابت نہیںکرسکتے تھے پس قرآن کا طریق استدلال نہ صرف مشکل ہے بلکہ اعلیٰ ہے۔عیسائیت نے آسان راستہ اختیار کیا مگر انجیل اور قرآن میںیہ فرق ہے کہ انجیل نے کہامسیح ؑچوروں سے اچھا ہے کیونکہ پہلے نبی چورتھے۔اور قرآن نے کہا کہ محمدؐ رسول اللہ خداکے گزرے ہوئے محبوبوں سے بھی زیادہ اس کا محبوب ہے اور اعلیٰ کردار والے لوگوں سے بھی زیادہ اعلیٰ کردار کاآدمی ہے پس قرآن نے یہ دعویٰ نہیںکیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوروں کا سردار ہے بلکہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ بزرگوں اور محبوبان الٰہی کا سردار ہے اور ظاہر ہے کہ چوروں کے سردار سے محبوبان الٰہی کا سردار یقیناً بڑا ہوگا اور اسی