تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 311

وَّ اَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ۰۰۳۰اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا ایسی حالت میں اُتار کہ مجھ پر کثرت سے برکتیں نازل ہو رہی ہوں اور مجھے (اس دعا کی بھی کیا ضرورت ہے جبکہ) لَمُبْتَلِيْنَ۰۰۳۱ تمام اتارنے والوں سے تیرا وجود بہتر ہے۔اس میں بہت سے نشان ہیں اور ہم یقیناً بندوں کا امتحان لینے والے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلتَّنُّوْرُ التَّنُّوْرُکے معنے ہیں۔اَلْکَا نُوْنُ یُخْبَزُ فِیْہِ۔تنور جس میں روٹیاں پکاتے ہیں۔کُلُّ مَفْجَرِ مَاءٍ۔ہر وہ جگہ جہاں سے پانی پھوٹ رہا ہو۔یعنی چشمہ۔مَحْفَلُ مَائِ الْوَادِیِّ۔پہاڑی وادی کا پانی جمع ہونے کی جگہ۔(اقرب) نیز تنور کے ایک معنے وَجْہُ الْاَرْضِ یعنی سطح زمین کے بھی ہیں (تاج) تفسیر۔جب حضرت نوح علیہ السلام کی مخالفت اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی طرف وحی کی کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنا۔اس جگہ جو بِاَعْیُنِنَا کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لُغت کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہیں کہ میری حفاظت میں کشتی بنا۔کیونکہ عَیْنٌ کے معنے عربی زبان میں جہاں آنکھ کے ہیں وہاں اس کے ایک معنے حفاظت کے بھی ہیں۔چنانچہ عربی زبان میں جب یہ کہا جائے کہ اَنْتَ عَلٰی عَیْنِیْ تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تُو میری حفاظت میں ہے اور میں تیری عزت کرتا ہوں (اقرب) اسی طرح فُلَانٌ بِعَیْنِیْکے یہ معنے ہو تے ہیں کہ اَحْفَظُہٗ وَ أُرَاعِیْہِ کہ میں اُس کی حفاظت کرتا ہوں اور اُس کی رعایت ملحوظ رکھتا ہوں (مفردات) مفردات ِ امام راغب ؒ میں بھی لکھا ہے کہ وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا کے یہ معنے ہیں کہ وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِحِفَاظَتِیْ یعنی تو میری حفاظت میں کشتی بنا اور اسی سے عربی زبان کا یہ محاورہ ہے کہ عَیْنُ اللہِ عَلَیْکَ اور اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ تُو خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہے (مفردات) پس اِصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کہ جب تم کشتی بنانے لگو گے تو کفار روکیں گے مگر ہم تمہاری حفاظت کریں گے اور تم کامیاب ہو جائو گے۔اور وَحْیِنَا سے اس طرف اشارہ کیا کہ اصل چیزدل کا تقویٰ ہے جو انسان کو عذاب الٰہی سے بچاتا ہے پس وہ روحانی کشتی بھی تیار کرو جو وحی الٰہی کی اتباع سے تیار ہوا کرتی ہے اور جس میں بیٹھنے والے خدا تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہا کرتے ہیں۔اس جگہ کشتی سے مراد ظاہری کشتی بھی ہو سکتی ہے مگر سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد