تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 310

غرض انبیاء کے مخالفین کا یہ ایک پرانا حربہ ہے جس سے وہ ہمیشہ کام لیتے رہے ہیں۔یا یوں کہو کہ جس طرح ڈوبتا ہوا آدمی سہارے کے لئے تنکوں پر بھی ہاتھ ڈال دیتا ہے اسی طرح وہ بھی مجنون کہہ کر الٰہی سلسلوں کی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں مگر آخر خدا کے رسول ہی کامیاب ہوتے ہیں اور مخالفین مجنون کہنے والے ناکامی اور نامرادی کا منہ دیکھتے ہیں۔قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ بِمَا كَذَّبُوْنِ۰۰۲۷فَاَوْحَيْنَاۤ اِلَيْهِ اَنِ ( اس پر نوح ؑ نے )کہا اے میرے رب !میری مدد کر کیونکہ یہ لوگ مجھے جھٹلاتے ہیں۔پس ہم نے اُس کی طرف اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ وحی کی کہ (جس)کشتی( کا ہم نے حکم دیا ہے اُس) کو ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق بنا۔پس جب التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَ اَهْلَكَ ہمارا حکم آجائے اور زمین کا سوتا پھوٹ پڑے تو اُس (کشتی) میں ہر ایک جانور میں سے (جس کا ہم حکم دیں) ایک ایک اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِيْ فِي جوڑا رکھ لے اور اپنے رشتہ داروں کو بھی اُن کے سوا جن کے خلاف ہمارا حکم پہلے اُتر چکا ہے سوار کردے۔اور الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ۰۰۲۸فَاِذَا اسْتَوَيْتَ اَنْتَ وَ جنہوں نے ظلم کیا ہے اُن کے متعلق مجھ سے کوئی بات نہ کر۔کیونکہ وہ تو ضرور غرق کئے جائیں گے۔پس جب تُو مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا اور تیرے ساتھی کشتی میں اچھی طرح بیٹھ جائیں تو تم سے ہر ایک کہے کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جس مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۲۹وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا نے ہمیں ظالموں کی قوم سے نجات دی۔تو( کشتی سے اُترتے وقت) کہہ کہ اے میرے رب ! تُو مجھے (اس کشتی سے)