تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 294
طٰٓىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَ(الاعراف :۲۰۲)یعنی وہ لوگ جنہوں نے اُس وقت تقویٰ اختیار کیا جب شیطان کی طرف سے آنے والا کوئی خیال اُن کو محسوس ہوا اور وہ ہوشیار ہوگئے اور اُن کی آنکھیں کُھل گئیں وہ ہدایت پا جاتے ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ کبھی کبھی ایسے لوگوں کو شیطان اپنی طرف کھینچتا ہے۔مگر وہ جھٹ ہوشیار ہو جاتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کو اپنی مدد کے لئے پکارتے ہیںاور شیطانی حملہ سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔پھر انسان اس سے بھی ترقی کرتا اور پانچویں درجہ میں پہنچ کرملک بن جاتا ہے۔یعنی اُس کی معرفتِ الٰہی ایسی ترقی کر جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل اُس کی غذا بن جاتا ہے اور جس طرح ملائکہ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(النحل:۵۱) کے مصداق ہوتے ہیں اسی طرح ایسا انسان بھی خدا تعالیٰ کے سب حکموں کو پورا کرتا ہے اور اس پر کبھی غفلت کی نیند نہیں آتی۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہےوَالْمَلٰٓئِکَۃُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ۔سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ (الرعد :۲۴،۲۵)یعنی ایسے لوگوں کے پاس ہر دروازہ سے فرشتے آئیں گےاور ان سے کہیں گے کہ تمہارے لئے سلامتی ہی سلامتی ہے کیونکہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں ثابت قدم رہے ہو۔پس اب دیکھو کہ تمہارے لئے اس گھر کا کیا ہی اچھا انجام ہے۔چونکہ یہ لوگ ملکوتی صفات رکھنے والے ہوںگے اس لئے ان کو دیکھتے ہی فرشتے اُن کی طرف دوڑ پڑیں گے اور انہیںاللہ تعالیٰ کے قرب اور اُس کے انعامات کے حصول کی خوشخبری دیں گے مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ فرشتے اپنی کثرت کی وجہ سے ایک دروازہ کی بجائے بہت سے دروازوں سے داخل ہوںگے بلکہ اس کے اصل معنے یہ ہیں کہ ہر دروازہ کا فرشتہ اُن کے پاس آئے گا اور انہیں مبارک باد دےگا کہ تم اس جدوجہد میں کامیاب ہو گئے جس میں میں اور تم دونوں مل کر شیطان کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔کیونکہ بدی انسانی قلب میں کئی راستوں سے داخل ہوتی ہے۔کبھی آنکھ کے ذریعہ بدی کی تحریک ہوتی ہے۔کبھی کانوں کے ذریعہ بدی کی تحریک ہوتی ہے اور کبھی چھونے اور چکھنے کے ذریعہ بدی کی تحریک ہوتی ہے اور چونکہ ہر راستہ کی حفاظت کے لئےخدا تعالیٰ کے فرشتے مقرر ہیں۔اس لئے جب انسان شیطان پر کامیابی حاصل کرلے گاتو ہردروازہ کا فرشتہ اُسے مبارکباد دینے کے لئے آئے گا۔پھر انسان اس سے بھی آگے ترقی کرتا ہے اور چھٹا درجہ اُسے حاصل ہوتا ہے کہ اُس میں ایسا تقویٰ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کلی طور پراللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بَلٰى ١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ( البقرۃ :۱۱۳)یعنی جو لوگ اپنے آپ کو کلیۃًاللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیں اور نیک اعمال بجا لائیں۔اُن کے لئے اپنے رب کے حضور بہت بڑا اجر مقدر