تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 295

ہے۔اور وہ ہر قسم کے خوف اور حزن سے محفوظ رہیں گے۔ملکوتی مقام میں تو وہ سمجھتا تھا کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں مجھے حکم دو تو میں دوڑ کر اُس کی تعمیل کروں گا۔مگر اس مقام پر پہنچ کر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں جس طرح آپ کی مرضی ہو اسی طرح مجھے چلا لیجئیے۔اس مقام پر پہنچ کر اس کے تمام کام خدا تعالیٰ کے کام ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک بے جان ہتھیار کی طرح دے دیتا ہے۔ایسے لوگوں کی نسبت ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ ترقی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ خدا اُن کی آنکھیں اور کان اور ہاتھ پاؤں بن جاتا ہے۔یعنی اُ ن کی تمام حرکات و سکنات اُس کے منشا کے مطابق ہوتی ہیںاور وہ ہر ابتلاء اور ٹھوکر سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ساتواں مقام جس پر انسان ترقی کرکے پہنچتا ہے وہ وہی ہے جس کاثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ میں ذکر کیا گیا ہے۔یعنی پھر اُسے ایک اور خلق میں بدل دیا جاتا ہے اور اس پر ایسا آسمانی رنگ چڑھ جاتا ہے کہ پہلے تو وہ خدا تعالیٰ کے بلائے بولتا تھا مگر اَب اُس کو وہ مقام بخشا جاتا ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے خدا تعالیٰ بھی اُسی کے مطابق اپنے احکام جاری کر دیتا ہے گویا پہلے تو خدا اس کے ہاتھ پاؤں بناتھا مگر پھر وہ ترقی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کے اپنے ہاتھ پاؤں خدا تعالیٰ کے ہاتھ پاؤں اور اُس کی اپنی زبان خدا تعالیٰ کی زبان بن جاتی ہےاور وہ وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى۔اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى(النجم:۴،۵) کا مصداق ہو جاتا ہے۔یہ انسانی کمال کا وہ آخری نقطہ ہے جس پر پہنچ کر خدائی صفات اُس کے آئینہ ٔ قلب میں منعکس ہونے لگتی ہیں۔اور وہ اس کے جلال اور جمال کا مظہر ہو جاتا ہے۔اس سے دشمنی رکھنے والے خدا تعالیٰ سے دشمنی رکھنے والے قرار پاتے ہیں اور اُس سے محبت رکھنے والے خدا تعالیٰ کی برکات اور اُس کے انعامات کے مورد بنتے ہیں۔اسی مقام کی طرف بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے ایک جگہ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ؎ اے آں کہ سوئے من بدویدی بصد تبر از باغباں بترس کہ من شاخِ مثمرم (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۸۱) یعنی اے وہ شخص جو میری طرف تبر اور کلہاڑے لے کر اس نیت سے دوڑا چلا آرہا ہے کہ تو میرے لگائے ہوئے باغ کو کاٹ دے تو باغبان سے ڈر کہ میں وہ شاخ نہیں ہوں جو کاٹی جا سکے۔تیری تدابیر الٹ کر تجھ پر ہی پڑیں گی اور تیرا منصوبہ خود تجھے ہی تباہ کر دےگا۔کیونکہ میرے سر سے پاؤں تک میرا خدا مجھ میں نہاں ہے اور حملہ