تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 293

لیکن وہ کسی بیرونی حملہ سے اپنے آپ کو بچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔چنانچہ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَ هُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ (الاعراف:۱۹۹) یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر تم ان کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ سن نہیں سکتے۔اورتو اُن کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ گویا وہ تجھے دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ تجھے نہیں دیکھ رہے۔اس جگہ اُن کی طرف دیکھنے کو منسوب کرنا اور پھر یہ کہنا کہ وہ نہیں دیکھتے بتاتا ہے کہ یہاں اُن لوگوں کا ذکر کیا جا رہاہے جن میں ایک حد تک تو نیکی کا احساس پایا جاتا ہے مگر اُن پر کمزوری اس قدر غالب ہوتی ہے کہ وہ اپنی اس حس سے پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتےاور دیکھنے کے باوجود وہ روحانی علوم سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہتے ہیں۔تیسرا درجہ حیوانی زندگی سے مشابہ ہوتا ہے یعنی جس طرح حیوان کو اگر آواز سناؤ تو وہ سُن لے گا مگر مطلب نہیں سمجھے گااور اگر اُسے دُکھ دینے لگو تو وہ بھاگ جائےگا۔مگر اپنے بچاؤ کے لئے ایسے ذرائع نہیں سوچ سکے گا جن کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لئے خطرات سے محفوظ ہو جائے۔اسی طرح روحانی عالم میں بھی بعض لوگ حیوانات کے مشابہ ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا١ٞ وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا١ٞ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ(الاعراف :۱۸۰) یعنی اُن کے دل تو ہیں مگر اُن کے ذریعہ سے وہ سمجھتے نہیںاور اُن کی آنکھیں تو ہیں مگر اُن کے ذریعہ سے وہ دیکھتے نہیں اور اُن کے کان تو ہیں مگر اُن کے ذریعہ سے وہ سنتے نہیں۔یہ لوگ چارپایوں کی طرح ہیں۔بلکہ اُن سے بھی بد تر ہیںاور اصل بات تو یہ ہے کہ یہ بالکل غافل ہیں۔ان لوگوں کو بدتر اس لئے کہا کہ چارپایوں میں جو نقص ہے وہ تو طبعی ہے۔لیکن ان کے اندراللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی قابلیتیں پیدا کی ہیں اور پھر بھی یہ چارپاؤںکے مشابہ بن گئے ہیں۔ایسے لوگ حیوانات کی طرح خوف کے وقت تو اپنے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی طرف جُھک جاتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو اُس کے عذاب سے محفوظ نہیں کر سکتے۔بلکہ جب مصیبت ہٹ جاتی ہے تو پھر شرارتوں کی طرف عود کر آتے ہیں۔لیکن جب اس سے بھی زیادہ خدا تعالیٰ کی محبت کا احساس پیدا ہو جائے تو چوتھا درجہ انسان کو یہ حاصل ہوتا ہے کہ اُسے تقویٰ اور روحانیت سے لگاؤ ہو جاتا ہے اور وہ سب کام عقل اور سمجھ سے کرنے لگتا ہے مگر کبھی کبھی اس پر شیطان بھی غالب آجاتا ہے ہاں بدی کا حملہ اس پر بہت کم کارگر ہوتا ہے۔کیونکہ اُس میں بدی کو بدی سمجھنے کی اہلیت پیدا ہو جاتی ہے اِس حالت کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا ہے کہ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ