تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 291
دن اسی طرح گذرتے چلے گئے اور حضرت عمر ؓ اسلام کی برابر سختی سے مخالفت کرتے رہے۔ایک دن اُن کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ اس مذہب کے بانی کا ہی کام تمام کرد یا جائےاور اس خیال کے آتے ہی انہوں نے تلوار ہاتھ میں لی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔راستہ میں کسی نے پوچھا۔عمرؓ کہاں جا رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارنے کے لئے جا رہا ہوں۔اُس شخص نے ہنس کر کہا۔اپنے گھر کی تو پہلے خبر لو۔تمہاری بہن اور بہنوئی تو اس پر ایمان لے آئے ہیں۔حضرت عمر ؓ نے کہا یہ جھوٹ ہے۔اُس شخص نے کہا تم خود جا کر دیکھ لو۔حضرت عمر ؓ وہاں گئے دروازہ بند تھا اور اندر ایک صحابی ؓ قرآن کریم پڑھا رہے تھے۔آپ نے دستک دی۔اندر سے آپ کے بہنوئی کی آواز آئی۔کون ہے؟ عمرؓ نے جواب دیا عمرؓ۔انہوںنے جب دیکھا کہ حضرت عمر ؓ آئے ہیں اور وہ جانتے تھے کہ آپ اسلام کے شدید مخالف ہیں تو انہوں نے صحابی ؓ کو جو قرآن کریم پڑھا رہے تھے کہیں چھپا دیا۔اسی طرح قرآن کریم کے اوراق بھی کسی کو نہ میں چھپا کرر کھ دیئے اور پھر دروازہ کھولا۔حضرت عمرؓ چونکہ یہ سُن کر آئے تھے کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں اس لئے انہوں نے آتے ہی دریافت کیا کہ دروازہ کھولنے میں دیر کیوں کی ہے۔آپ کے بہنوئی نے جواب دیا۔آخر دیر لگ ہی جاتی ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا یہ بات نہیں کوئی خاص امر دروازہ کھولنے میں روک بنا ہے۔مجھے آواز آرہی تھی کہ تم اُس صابی کی باتیں سن رہے تھے (مشرکین مکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صابی کہا کرتے تھے) انہوں نے پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن حضرت عمرؓ کو غصّہ آیا اور وہ اپنے بہنوئی کو مارنے کے لئے آگے بڑھے۔آپ کی بہن اپنے خاوند کی محبت کی وجہ سے درمیان میں آگئیں۔حضرت عمر ؓ چونکہ ہاتھ اُٹھا چکے تھے اور اُن کی بہن اچانک درمیان میں آگئیں وہ اپنا ہاتھ روک نہ سکے اور اُن کا ہاتھ زور سے اُن کی ناک پر لگااور اُس سے خون بہنے لگا۔حضرت عمرؓ جذباتی آدمی تھے یہ دیکھ کر کہ انہوں نے عورت پر ہاتھ اُٹھایا ہے جو عرب کے طریق کے خلاف تھا اور پھر بہن پر ہاتھ اٹھایا ہے۔حضرت عمرؓ نے بات ٹلانے کے لئے کہا اچھا مجھے بتاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے ؟بہن نے سمجھ لیا کہ عمرؓ کے اندر نرمی کے جذبات پیدا ہو گئے ہیںاُس نے کہا جاؤتمہارے جیسے انسان کے ہاتھ میں میں وہ پاک چیز دینے کے لئے تیار نہیں۔حضرت عمر ؓ نے کہا پھر میں کیا کروں۔بہن نے کہا وہ سامنے پانی ہے نہا کر آؤ۔تب وہ چیز تمہارے ہاتھ میں دی جاسکتی ہے۔حضرت عمرؓ نہائے اور واپس آئے۔بہن نے قرآن کریم کے اوراق جو وہ سن رہے تھے آپ کے ہاتھ میں دئیے چونکہ حضرت عمرؓ کے اندر ایک تغیر پیدا ہو چکا تھا اس لئے قرآنی آیات پڑھتے ہی اُن کے اندر رقت پیدا ہوئی اور جب وہ آیات ختم کر چکے تو بے اختیار انہوں نے کہا کہ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ یہ الفاظ سن کروہ صحابی ؓ بھی باہر نکل آئے جو حضرت عمرؓ سے ڈر کر چھپ گئے تھے۔پھر حضرت عمرؓ نے دریافت کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج کل کہاں مقیم ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں مخالفت کی وجہ سے گھر بدلتے رہتے تھے۔انہوں نے بتا یا کہ آج کل آپ دارِ ارقم میں تشریف رکھتے ہیں۔حضرت عمرؓ فوراً اسی حالت میں جب کہ ننگی تلوار انہوں نے لٹکائی ہوئی تھی اُس گھر کی طرف چل پڑے بہن کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ شاید وہ بری نیت سے نہ جا رہے ہوں۔انہوں نے آگے بڑھ کر کہا خدا کی قسم ! میں تمہیں اُس وقت تک نہیں جانے دوں گی جب تک تم مجھے اطمینان نہ دلادو کہ تم کوئی شرارت نہیں کرو گے۔حضرت عمرؓ نے کہا میں پکا وعدہ کرتاہوں کہ میںکوئی فساد نہیں کروںگا۔حضرت عمرؓ وہاں پہنچے اور دستک دی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ اندر بیٹھے ہوئے تھے دینی درس ہو رہاتھا۔کسی صحابیؓ نے پوچھا کون؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا۔عمرؓ! صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ ! دروازہ نہیں کھولنا چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ کوئی فساد کرے۔حضرت حمزہؓ نئے نئے ایمان لائے ہوئے تھے وہ سپاہیانہ طرز کے آدمی تھے۔انہوں نے کہا دروازہ کھول دو۔میں دیکھوں گا وہ کیاکرتا ہے۔چنانچہ ایک شخص نے دروازہ کھول دیا۔حضرت عمرؓ آگے بڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمرؓ! تم کب تک میری مخالفت میں بڑھتے چلے جاؤ گئے۔حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ ! میں مخالفت کے لئے نہیں آیا میں تو آپ کا غلام بننے کے لئے آیا ہوں۔وہ عمرؓ جو ایک گھنٹہ پہلے اسلام کے شدید دشمن تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کے لئے گھر سے نکلے تھے ایک آن میں اعلیٰ درجہ کے مومن بن گئے۔حضرت عمرؓ مکہ کے رئیسوں میں سے نہیں تھے لیکن بہادری کی وجہ سے نوجوانوں پر آپ کا اچھا اثر تھا۔جب آپ مسلمان ہوئے تو صحابہؓ نے جوش میں آکر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔اس کے بعد نماز کا وقت آیا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنی چاہی تو وہی عمرؓ جو دو گھنٹے قبل گھر سے اس لئے نکلا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارے۔اُس نے دوبارہ تلوار نکال لی اور کہا۔یارسول اللہ ! خدا تعالیٰ کا رسول اور اُس کے ماننے والے تو چھپ کر نمازیں پڑھیں اور مشرکین مکہ باہر دندناتے پھریں یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔میں دیکھوں گا کہ ہمیں خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے سے کون روکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جذبہ تو بہت اچھا ہے لیکن ابھی حالات ایسے ہیں کہ ہمارا باہر نکلنا مناسب نہیں (السیرۃ الحلبیۃ باب الھجرۃ الاولیٰ۔۔۔اسلام عمر بن الخطاب ؓ)۔یہ ایک غیر معمولی انقلاب تھا جو حضرت عمرؓ کے اندر پیدا ہوااور آناً فاناً آپ شدید دشمن سے اعلیٰ درجہ کے مومن بن گئے۔مگر ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جن کی حالت انقلاب کے ذریعہ دوسری حالت میں بدلتی ہےاور پھر انقلاب خود پیدا نہیں کیا جا تا بلکہ انقلاب باہر سے آیا کرتا ہےاور جب آتا ہے تو لوگ حیران ہو جاتے ہیں۔دوست دشمن بن جاتے ہیں اور دشمن دوست بن جاتے ہیں۔لیکن استدراجی تغیر پیدا کیا جاتا ہے اور جو شخص استدراجی حالت پر ہو لیکن وہ انقلاب کی اُمید میں بیٹھا رہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مجھے ایک رات میں چالیس ہزار عربی کا مادہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھایا گیا۔( انجام آتھم ص ۲۳۴)(’’ایک رات‘‘ کے لئے دیکھئے روایت غلام نبی صاحب سیٹھی مندرجہ الحکم ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۳۵ء)اب یہ انقلاب تھا جو آپ کے اندر پیدا ہوا۔لیکن اگر اس انقلاب کو دیکھتے ہوئے لڑکے سکول میں پڑھنا چھوڑ دیں اور اس انتظار میں بیٹھ جائیں کہ فرشتہ آئےگا اور ساٹھ ہزار عربی کا مادہ انھیں سکھا دےگاتو انہیں کون عقلمند سمجھے گا؟ انقلاب پیدا نہیں کئے جاتے بلکہ انقلاب خود بخود پیدا ہوتے ہیں۔لیکن ارتقاء اور انتقال عَنِ الحال اِلَی الحال آہستہ آہستہ اور محنت کے ساتھ ہوتا ہے۔انقلاب لاکھوں دنوںمیں کسی ایک دن آتا ہے۔باقی سارے دن انتقال کے ہوتے ہیں اور انسان ایک حالت سے دوسری حالت میں بتدریج کوشش اور محنت اور قربانی کے ساتھ پہنچتا ہے۔یہ انتقال عَنِ الحال اِلَی الحال اور استدراجی تغیر ہمیشہ نوافل اور ذکرِ الٰہی اور کوشش اور جدوجہد کے ساتھ ہوتا ہے۔انسان جب اپنے نفس کا مطالعہ کرے تو وہ سوچے گا کہ اگر دوسرا شخص مجھے گالی دے تو میں اپنے نفس کو کس طرح روکوں گا۔وہ ظلم کرے تو میں اُس کے ظلم کو کیسے برداشت کروںگا۔وہ لغو گفتگو کرے تو میں اپنی زبان کو کس طرح بند رکھوں گا۔اور جب وہ سوچےگا تو آہستہ آہستہ اس کا نفس کامل بنتا چلا جائےگا۔اگر اُس میں انقلاب آتا تو پہلے ہی دن وہ تہجد اور دوسرے نوافل پڑھنے لگ جاتا۔وہ فوراً حرام خوری اور جھوٹ سے بچ جاتا۔لیکن ایسا اس لئے نہیں ہوتا کہ اُس کا تغیر استدراجی ہوتا ہے اور اس کی ترقی کوشش اور جدوجہد کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ عام طورپر اس کوشش اور جدوجہد کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں توجہ دلائی ہے اور انقلاب کے انتظار میں لوگ بیٹھے رہتے ہیں۔حالانکہ اُن کے اندر جو بھی تغیر پید اہوگا وہ استدراجی ہوگا اور اس کے لئے کوشش اور جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔اس غرض کے لئے بنیادی طورپر اس امر کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خلوص کے ساتھ عبادت کی جائے اور اس پر دوام اختیار کیا جائے۔اگر انسان عبادت پر دوام اختیار کرے تو دوسری نیکیاں آپ ہی آپ صادر ہونے لگتی ہیں۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ صرف فرض نمازیں پڑھی جائیں بلکہ جیسا کہ بتایا جاچکا ہے تہجد اور نوافل کی ادائیگی پر بھی زور دینا چاہیے۔اسی طرح دیانت ، امانت وفائے عہد ، غرباء پروری اور عفت کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ان نیکیوں میں حصہ لینے سے انسان اتنا ترقی کر جاتا ہے کہ آخر اُسے ایک نئی روحانی پیدائش حاصل ہو جاتی ہے اور انسانیت اپنے معراجِ کمال کو پہنچ جاتی ہے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآىِٕقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ اور ہم نے تمہارے اوپر(کے درجات کے لئے) سات (روحانی) راستے بنائے ہیں اور ہم (اپنی )مخلوق غٰفِلِيْنَ۰۰۱۸ سے غافل نہیں رہے۔حلّ لُغات۔طَرَآئِقَ۔طَرَائِقُ طَرِ یْقَۃٌ کی جمع ہے اور طَرِیْقَۃُ الرَّجُلِ کے معنے ہوتے ہیں مَذْھَبُہٗ یعنی وہ راستہ جسے وہ اختیار کرتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔علامہ قرطبی ؒ لکھتے ہیں کہ یہاںسَبْعَ طَرَآىِٕقَسے سات آسمان مراد ہیں۔اور اُن کو طَرَآىِٕقَ اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے اوپر تہہ بہ تہہ واقع ہیں۔چنانچہ عربی زبان میں جب طَارَقْتُ الشَّيْءَ کہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ جَعَلْتُ بَعْضَہٗ فَوْقَ بَعْضٍ۔میں نے ایک چیز کے مختلف حصّوں کو ایک دوسرے کے اوپررکھ دیا۔وَالْعَرَبُ تُسَمِّیْ کُلَّ شَیْءٍ فَوْقَ شَیْءٍ طَرِیْقَۃً اور عرب لوگ ہر اُس چیز کو جو دوسری چیز پر رکھی ہوئی ہو طرِیْقَۃٌ کہتے ہیں ( تفسیر قرطبی زیر آیت ھٰذا) علامہ ابو حیانؒ بھی اپنی تفسیر بحرِ محیط میں خلیل۔فرّاء اور زجاج کے متعلق لکھتے ہیں کہ اُن کے نزدیک بھی آسمان کو طرائق اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔چنانچہ جب طَارَقَ النَّعْلَ کہیں تو اُس کے معنے یہ ہوتے ہیںکہ جَعَلَہٗ علٰی نَعْلٍ اُس نے ایک جوتی کودوسری جوتی پر رکھ دیا اور طَارَقَ بَیْنَ ثَوْبَیْنِ کے یہ معنے ہوتے ہیںکہ لَبِسَ أَحَدَھُمَا عَلَی الْاٰخِر اُس نے ایک کپڑے پر دوسرا کپڑا پہن لیا۔(بحرِ محیطزیر آیت ھٰذا) امام راغبؒ اپنی کتاب مفردات میں سورۂ جن کی آیت كُنَّا طَرَآىِٕقَ قِدَدًا کے متعلق لکھتے ہیں کہ اِشَارَۃٌ اِلٰی اِخْتِلَافِھِمْ فِیْ دَرَجٰتِھِمْ یعنی اس میں ان کے درجات کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے گویا طَرَآىِٕقَ کے معنے انہوں نے درجات کے کئے ہیںاور سَبْعَ طَرَآىِٕقَکے متعلق لکھتے ہیں کہ اِطْبَاقُ السَّمَائِ یُقَالُ لَھَا طَرَائِقُ یعنی طرائق کے معنے آسمانوں کا اوپر نیچے ہو ناہے۔