تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 292

نے درجات کے کئے ہیںاور سَبْعَ طَرَآىِٕقَکے متعلق لکھتے ہیں کہ اِطْبَاقُ السَّمَائِ یُقَالُ لَھَا طَرَائِقُ یعنی طرائق کے معنے آسمانوں کا اوپر نیچے ہو ناہے۔ان معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے وَلَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَکُمْ سَبْعَ طَرَآىِٕقَکے یہ معنے ہوںگے کہ ہم نے تمہارے اوپر یکے بعد دیگر ے سات بلندیاں پیدا کی ہیں۔یعنی جس طرح تمہاری جسمانی پیدائش کو ہم نے سات ترقیات کے ساتھ مکمل کیا ہے اسی طرح تمہاری روحانی پیدائش کو بھی ہم نے سات درجات میں تقسیم کیا ہوا ہے۔یہ سات درجات کو ن سے ہیں ؟ اس کے متعلق جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ روحانیات میں انسان کا پہلا درجہ جمادات کے مشابہ ہوتا ہے۔یعنی جس طرح جمادات کے اندر کوئی حس نہیں ہوتی اسی طرح ایسے لوگوں میں بھی بھلی بُری بات پہچاننے کی کوئی حس نہیں ہوتی۔نہ اُن کے سامنے کوئی بلند مقصد ہوتا ہے۔انہیں لاکھ وعظ کیا جائے اُن کے اندر نیکی اور خدا تعالیٰ کی خشیٔت کا کوئی احساس پیدا نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں کی طرف قرآن کریم کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً (البقرۃ:۷۵)یعنی اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے اور وہ پتھروں کی طرح ہوگئے بلکہ اپنی سختی میں پتھروں سے بھی آگے نکل گئے۔گویا بعض لوگوں کے دل خدا تعالیٰ کی محبت سے ایسے سرد ہوتے ہیں کہ اُن میں خدا تعالیٰ کی خشیٔت کا کوئی احساس ہی نظر نہیں آتا۔جب انہیں بھوک لگتی ہے کھالیتے ہیں اور جب نیند آتی ہے تو سو رہتے ہیں۔انہیں کبھی یہ خیال بھی نہیں آتا کہ خدا تعالیٰ نے اُن پر کیا ذمہ داریاں رکھی ہوئی ہیں۔بلکہ اگر انہیں کوئی توجہ بھی دلائے تو وہ بے کار ثابت ہوتی ہے ایسے لوگ روحانیات میں جمادات سے مشابہت رکھتے ہیں۔دوسرا درجہ جو اس سے اوپر ہے وہ نباتات کے مشابہ ہے یعنی جب انسان ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھاتا ہے اور جمادی حالت کو ترک کر دیتا ہے تو اس کے اندر نباتات کے مشابہ ایک نشوونما کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ لمبے تجربات کے بعد یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ نباتات کے اندر بھی رُوح ہوتی ہے گو وہ حیوانی رُوح سے بہت کم درجہ کی ہوتی ہے اس کے ثبوت کے لئے چھوئی موئی کی بوٹی کو جسے اُردو میں لاجونتی کہتے ہیں پیش کیا جا سکتا ہے۔اُس کے پتوں کو جب ہاتھ لگایا جائے تو وہ فوراً سکڑ جاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نباتات میں بھی حِس ہوتی ہے۔گو بعض میں زیادہ ہوتی ہے اور بعض میں کم مگر یہ حِس اتنی کمزور ہوتی ہے کہ کسی صدمہ سے بچنے کی طاقت اُن میں نہیں ہوتی جیسے لاجونتی کے پتے ہاتھ لگانے سے سکڑ جاتے ہیں لیکن اُن میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ بھاگ کر اپنے آپ کو بچا لیا کریں۔اسی طرح ایک انسان اس قسم کا ہوتا ہے کہ اس میں کسی قدر روحانی حِس تو پائی جاتی ہے