تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 290
بہت اچھا ہے لیکن ابھی حالات ایسے ہیں کہ ہمارا باہر نکلنا مناسب نہیں (السیرۃ الحلبیۃ باب الھجرۃ الاولیٰ۔۔۔اسلام عمر بن الخطاب ؓ)۔یہ ایک غیر معمولی انقلاب تھا جو حضرت عمرؓ کے اندر پیدا ہوااور آناً فاناً آپ شدید دشمن سے اعلیٰ درجہ کے مومن بن گئے۔مگر ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جن کی حالت انقلاب کے ذریعہ دوسری حالت میں بدلتی ہےاور پھر انقلاب خود پیدا نہیں کیا جا تا بلکہ انقلاب باہر سے آیا کرتا ہےاور جب آتا ہے تو لوگ حیران ہو جاتے ہیں۔دوست دشمن بن جاتے ہیں اور دشمن دوست بن جاتے ہیں۔لیکن استدراجی تغیر پیدا کیا جاتا ہے اور جو شخص استدراجی حالت پر ہو لیکن وہ انقلاب کی اُمید میں بیٹھا رہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ مجھے ایک رات میں چالیس ہزار عربی کا مادہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکھایا گیا۔( انجام آتھم ص ۲۳۴)(’’ایک رات‘‘ کے لئے دیکھئے روایت غلام نبی صاحب سیٹھی مندرجہ الحکم ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۳۵ء)اب یہ انقلاب تھا جو آپ کے اندر پیدا ہوا۔لیکن اگر اس انقلاب کو دیکھتے ہوئے لڑکے سکول میں پڑھنا چھوڑ دیں اور اس انتظار میں بیٹھ جائیں کہ فرشتہ آئےگا اور ساٹھ ہزار عربی کا مادہ انھیں سکھا دےگاتو انہیں کون عقلمند سمجھے گا؟ انقلاب پیدا نہیں کئے جاتے بلکہ انقلاب خود بخود پیدا ہوتے ہیں۔لیکن ارتقاء اور انتقال عَنِ الحال اِلَی الحال آہستہ آہستہ اور محنت کے ساتھ ہوتا ہے۔انقلاب لاکھوں دنوںمیں کسی ایک دن آتا ہے۔باقی سارے دن انتقال کے ہوتے ہیں اور انسان ایک حالت سے دوسری حالت میں بتدریج کوشش اور محنت اور قربانی کے ساتھ پہنچتا ہے۔یہ انتقال عَنِ الحال اِلَی الحال اور استدراجی تغیر ہمیشہ نوافل اور ذکرِ الٰہی اور کوشش اور جدوجہد کے ساتھ ہوتا ہے۔انسان جب اپنے نفس کا مطالعہ کرے تو وہ سوچے گا کہ اگر دوسرا شخص مجھے گالی دے تو میں اپنے نفس کو کس طرح روکوں گا۔وہ ظلم کرے تو میں اُس کے ظلم کو کیسے برداشت کروںگا۔وہ لغو گفتگو کرے تو میں اپنی زبان کو کس طرح بند رکھوں گا۔اور جب وہ سوچےگا تو آہستہ آہستہ اس کا نفس کامل بنتا چلا جائےگا۔اگر اُس میں انقلاب آتا تو پہلے ہی دن وہ تہجد اور دوسرے نوافل پڑھنے لگ جاتا۔وہ فوراً حرام خوری اور جھوٹ سے بچ جاتا۔لیکن ایسا اس لئے نہیں ہوتا کہ اُس کا تغیر استدراجی ہوتا ہے اور اس کی ترقی کوشش اور جدوجہد کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ عام طورپر اس کوشش اور جدوجہد کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں توجہ دلائی ہے اور انقلاب کے انتظار میں لوگ بیٹھے رہتے ہیں۔حالانکہ اُن کے اندر جو بھی تغیر پید اہوگا وہ استدراجی ہوگا اور اس کے لئے کوشش اور جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔اس غرض کے لئے بنیادی طورپر اس امر کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خلوص کے ساتھ عبادت کی جائے اور اس پر دوام اختیار کیا جائے۔اگر انسان عبادت پر دوام اختیار کرے تو دوسری