تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 279
زخموں سے چور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر گِرا اور اُس نے کہا یا رسول اللہ ! میں دل سے مسلمان ہوں مگر میرا باپ اسلام کی وجہ سے مجھے تکلیفیں دے رہا ہے۔آج میرا باپ یہاں آیا تو میں موقعہ پا کر نکل بھاگا اور یہاں آگیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ اُس کا باپ کہنے لگا معاہدہ ہو چکا ہے۔اب اسے میرے ساتھ جانا پڑےگا۔ابو جندل کی حالت اس وقت اتنی دردناک تھی کہ مسلمانوں کی آنکھوں سے خون کے آنسو بہتے تھے۔خود ابو جندل نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے پھر مکہ والوں کی طرف واپس کر دیں گے تاکہ یہ لوگ مجھے پہلے سے بھی زیادہ تکلیف دیں؟ مگر آپ نے فرمایا ! خدا کے رسول معاہدہ نہیں توڑا کرتے۔تمہیں بہر حال واپس جانا پڑےگا۔تم صبر سے کام لو اور خدا تعالیٰ پر توکل کرو۔چنانچہ وہ مکہ میں واپس بھجوا دیا گیا۔پھرجب آپ مدینہ پہنچے تو مکہ کا ایک اور نوجوان ابو بصیر ؓ آپ کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوا مدینہ پہنچا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بھی معاہدہ کے مطابق مکہ واپس جانے پر مجبور کیا(السیرة النبویة لابن ہشام وما جری علیہ امر قوم من المستضعفین بعد الصلح)۔اسی طرح وفائے عہد کا آپ کو اس قدر خیال تھا کہ ایک دفعہ ایک حکومت کا ایلچی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی پیغام لے کر آیا اور آپ کی صحبت میں کچھ دن رہ کر اسلام کی سچائی کا قائل ہو گیا۔اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں اپنے اسلام کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مناسب نہیں۔تم اپنی حکومت کی طرف سے ایک امتیازی عہد ہ پر مامور ہو۔تم اسی حالت میں واپس جاؤ اور وہاں جاکر اگر تمہارے دل میں اسلام کی محبت پھر بھی قائم رہے تو دوبارہ آکر اسلام قبول کرو۔( ابو داؤد کتاب الجھادباب فی الامام یستجن بہ فی العھود( پھر مسلمانوں کو بھی وفائے عہد کا اس قدر خیال رہتا تھا کہ ایک دفعہ کفار نے عین جنگ کے دوران میں دھوکا سے ایک حبشی مسلمان سے معاہدہ کر لیااور انہوں نے قلعہ کے دروازے کھول دئیے۔جب لشکر آگے بڑھا تاکہ قلعہ میں داخل ہوتو انہوں نے کہا ہمارا تو تم سے معاہدہ ہو چکا ہے۔کمانڈر نے کہا میرے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔انہوں نے کہا ہم نے ایک حبشی سے معاہدہ کر لیا تھا اور اُس نے بعض شرائط پر ہمیں امن دےدیا تھا۔کمانڈر نے کہا اُسے معاہدہ کا کیا اختیار تھا۔معاہدہ تو میرے ساتھ ہو نا تھا۔انہوں نے کہا ہم نہیں جانتے ہم آپ سے معاہد ہ کر چکے ہیں۔جب یہ اختلاف بڑھاتو اسلامی فوج کے کمانڈر نے حضرت عمرؓ کو یہ تمام واقعہ لکھ دیااور دریافت کیا کہ اب کیا کیا جائے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے وفاء عہد کو بڑی عظمت و اہمیت دی ہے۔سو تم اس عہد کو پورا کرو اور اُس وقت تک اس عہد پر قائم رہو جب تک کہ فریق ثانی خود اس عہد کی خلاف ورزی نہ کرے۔(طبری جلد ۵ صفحہ ۲۵۶۸ )