تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 280

غرض اسلام امانت و دیانت اور معاہدات کی پابندی کو خاص اہمیت دیتا ہے۔اور فرماتا ہے کہ وہی مومن کامیاب ہو سکتے ہیں جو امانت اور وفائے عہد میں بھی بہترین نمونہ پیش کرنے والے ہوں۔پھر چھٹا درجہ یہ بتایا کہ وہ لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔یہاں نماز کا لفظ جمع کی صورت میں آیا ہے۔پس اس سے ایک تو اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ہر قسم کی نمازیں یعنی فرائض اور نوافل اچھی طرح ادا کرتے ہیں اور دوسرے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی قوم میں سے ہر ایک کی جسمانی عبادت کی حفاظت کرتے ہیں یعنی یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ اُن کی اولاد اُن کی بیویاں ، اُن کے رشتہ دار اور اُن کے ہمسایہ اور اُن کی سب قوم نماز کی پابند ہے یا نہیں کیونکہ جب تک سارے خاندان بلکہ ساری قوم کے اعمال درست نہ ہوں اُس وقت تک انسان کا اپنا عمل بھی خطرہ سے باہر نہیں رہ سکتا۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جب ایک شخص صبح اپنے بچے کو نماز کے لئے جگانے لگتا ہے تو اُس وقت فوراً جذباتِ محبت اُس کے سامنے آجاتے ہیں اور دل میں کہتا ہے۔سخت سردی ہے میں اسے کیوں جگاؤں۔اگر نماز کے لئے جگایا تو اسے سردی لگ جائے گی۔پھر وہ بیوی کو نماز کے لئے جگانے لگتا ہے تو اس وقت بھی محبت کے جذبات اُس کے سامنے آجاتے ہیں اور وہ کہتا ہے۔ساری رات یہ بچے کو اُٹھا کر پھرتی رہی ہے۔اب میں اسے جگاؤں گا تو اس کی نیند خراب ہو جائےگی۔بہتر ہے کہ یہ سوئی رہے۔نماز پھر پڑھ لے گی۔غرض کبھی سخت سردی اور کبھی سخت گرمی کا عذر اس کے سامنے آجاتا ہے چھ مہینے اس کے سامنے یہ سوال رہتا ہے کہ سخت سردی ہے ان ایام میں بچہ کو نماز کے لئے کیوں جگاؤں اسے سردی لگ جائےگی اور چھ مہینے اُس کے سامنے یہ سوال رہتا ہے کہ نازک اور پُھول سا بچہ ہے نماز پڑھنے گیا تو اسے گرمی لگ جائےگی۔پھر کبھی بیوی کو جگاتے وقت یہ خیال آجاتا ہے کہ یہ ساری رات تو بچے کو اٹھائے پھرتی رہی ہے۔اس لئے بہتر ہے کہ سوئی رہے۔نماز پھر پڑھ لے گی۔غرض قدم قدم پر جذبات اور احساسات اُس کے سامنے آجاتے ہیں۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ اُن کی اصلاح ہوتی ہے اورنہ اس کی اپنی اصلاح مکمل ہوتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے۔قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَ اَھْلِیْکُمْ نَارًا (التحریم:۷)۔یعنی اے میرے بندو نہ صرف اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچائو بلکہ اپنے اہل وعیال کو بھی آگ سے بچاؤ۔تمہارا صرف اپنے آپ کو آگ سے بچا لینا کافی نہیں بلکہ دوسروں کو بچانا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر دوسرا نہیں بچے گا تو وہ تمہیں بھی لے ڈوبے گا۔مگر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ نماز کی پابندی کئی رنگ کی ہوتی ہے۔سب سے پہلا درجہ جس سے اترکر اور کوئی درجہ نہیں یہ ہے کہ انسان بالالتزام پانچوں وقت کی نمازیں پڑھے۔جو مسلمان پانچ وقت کی نمازیں پڑھتا ہے اور اُس میں کبھی ناغہ نہیںکرتاوہ ایمان کا سب سے چھوٹا درجہ حاصل کرتا ہے۔